مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 129

مشعل راه جلد سوم 129 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ نے سورۃ مریم کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت واذكر في الكتب اِسْمعِيْلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَبِيَّات وكَانَ يَأْمُرُ اهْلَهُ بِالصَّلوة والزكوة ، وَكَانَ عِنْدَرَتِهِ مَرْضِيّا (56-55:-) اور پھر فرمایا:- ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اس نماز کا نقشہ کھینچا ہے جو دونوں جہات سے عاری ہے۔نہ حقوق اللہ کو ادا کر رہی ہے اور نہ ہی حقوق العباد کو اور در حقیقت یہ ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔یہاں پہنچ کر نماز مجمع الجرین ہو جاتی ہے۔یعنی ایک پہلو سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ حقوق اللہ ہے اور دوسرے پہلو سے یہ حقوق العباد نظر آتی ہے تو فرمایا کہ یہ لوگ خدا کی یاد سے غافل ہو کر دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں اور جو خالق کی یاد سے غافل ہو کر نماز پڑھے وہ مخلوق کی ضروریات سے بھی غافل ہو جا تا کرتا ہے۔وہ مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے کا اہل نہیں رہتا۔ایسی نماز تو بالکل بیکار اور بے فائدہ ہے جو برکتوں اور ثواب کی بجائے لعنتوں کا موجب بن جائے۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور یہ حفاظت دو طرح سے کرنی ہوگی۔ایک اس کے ظاہر کی حفاظت کرنی پڑے گی اور دوسرے اس روح کی حفاظت کرنی پڑے گی جس کے بغیر نماز باطل ہو جایا کرتی ہے ان دونوں پہلوؤں سے میں سمجھتا ہوں توجہ دلانے کی بہت گنجائش موجود ہے۔میں یہ دیکھتا ہوں کہ ربوہ میں نماز کا وہ معیار نہیں رہاجو قادیان میں ہوا کرتا تھا اور گھروں میں تلقین نہیں رہی جس کے نتیجے میں کثرت کے ساتھ نمازی پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی وہ آیات جو میں نے شروع میں تلاوت کی تھیں ان میں نماز کو قائم کرنے کا گر بتاتے ہوئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی مثال پیش کی گئی ہے فرماتا ہے۔کانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا وَكَانَ يَأْمُرُاهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكوةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيّاً ( سورة مريم:55-56) کہ اسمعیل کی ایک بہت پیاری عادت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل کو نماز اور زکواۃ کی ادائیگی کی تعلیم دیا کرتا تھا اور خدا کو بہت پیارا لگتا تھا گانَ