مشعل راہ جلد سوم — Page 115
مشعل راه جلد سوم 115 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا:۔آج سب سے پہلے تو آپ کو ایک خوشخبری سنانی ہے جو طلبہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والی خاص خوشخبری ہے۔ہماری ایک بچی امتہ المجیب صاحبہ جو مکرم اکرام اللہ صاحب آف ملتان کی بیٹی ہیں، آکسفورڈ میں پڑھ رہی تھیں اور ڈاکٹریٹ (doctrate) کر رہی تھیں، ان کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے solid state پر جو پیپرلکھا تھا وہ بھی اور viva یعنی زبانی امتحان بھی خدا کے فضل سے بہت ہی نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا ہے اور viva میں جو انٹرویو لینے والے تھے انہوں نے سب سے پہلے تو اس پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم علم کے میدان میں یہاں تک پہنچی ہو اور برقع پہنا ہوا ہے۔یہ کیا بات ہے؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ skirt پینے کوئی ماڈرن سی لڑکی آئے گی۔اس نے کہا میں نے تو برقع پہن کے ہی پڑھا ہے اور اب بھی برقع ہی پہنوں گی۔یہ میرا (دینی) نشان ہے میں اس کو کس طرح چھوڑ سکتی ہوں۔اس کے بعد انہوں نے viva یعنی زبانی امتحان لیا اور اللہ کے فضل سے وہ ہر سوال کا صحیح جواب دینے میں کامیاب ثابت ہوئی۔آخر پر انہوں نے کہا ہم نے تمہارے پیپر بھی دیکھے ہیں۔تم سے ایک مدد چاہیے اور وہ یہ کہ اگر تمہارے پیپر میں کوئی غلطی ہے تو خود بتا دو۔کیونکہ ہمیں کہیں غلطی نہیں ملی۔ہم نے بار بار توجہ کی ہے کہ کسی طرح کوئی ایک غلطی پکڑ لیں لیکن کہیں کوئی غلطی نظر نہیں آئی۔احمدی طلبہ کا علمی میدان میں آنا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی طلبہ جس نے دور میں داخل ہور ہے ہیں یہ اس کی دوسری علامت ظاہر ہورہی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو علم کی طرف بہت توجہ تھی اور ان کی زندگی میں ہی پہلا پھل ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی شکل میں ظاہر ہوا۔اس سے ایک عام وسیع پیمانے پر impact ہوا