مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 6

فرموده ۱۹۶۶ء 6 د دمشعل را قل راه جلد دوم جسے ہم ادا کر رہے ہوتے ہیں۔گو ہم بظاہر وہ عمل اپنے لئے یا دوسرے بنی نوع انسان کے لئے کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہر عمل کی بنیاد خدا تعالیٰ کی رضا پر ہے اس لئے ہم اس کو بجالانے کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کے حق کو بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔اسلام نے ہمیں نہایت اعلیٰ اور نہایت وسیع تعلیم دی ہے۔اگر ہم اس کو صحیح طور پر سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو ہماری اس زندگی کا ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتا ہے اور اس طرح وہ عبادت بن جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے خاندان پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے اب دنیا میں ہر کمانے والا شخص ( الا ماشاء اللہ کہ بعض لوگ غلط کام کرنے والے بھی ہوتے ہیں وہ مشقی ہیں ) اپنے خاندان کا خیال رکھتا ہے کوئی دہر یہ ہو عیسائی ہو ہندو ہو بدھ مذہب کا ہو مشرک ہو یا مسلمان ہوں ہر شخص کماتا ہے اور اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہے لیکن اگر ایک مسلمان کماتا ہے اور اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہے تو وہ اس نیت سے ایسا کر رہا ہوتا ہے کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے وہ اپنی کمائی اپنے بیوی بچوں پر اس لئے خرچ کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ایسا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو تم نے صحیح طور پر نبھانا ہے۔اب دیکھو یہ دنیا کا کام ہے اس میں بندوں کے حق کی ادائیگی نمایاں نظر آتی ہے لیکن اس کی روح اللہ تعالیٰ کا حق ہی ہے۔اس میں انسان مَحْيَايَ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔وہ یہ بتارہاہوتا ہے کہ اس کی زندگی۔اس کا ہر عمل اس کی ہر جد و جہد اور اس کی ہر کوشش لِرَبِّ الْعَالَمِینَ یعنی خدا تعالیٰ کے لئے ہے اور جب کسی کو یہ مقام حاصل ہو جائے تو دنیا میں حقوق العباد کے سلسلہ میں اس کے اعمال حقوق اللہ کے سلسلہ میں بجا لائے جانے والے اعمال سے آگے نکل جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے الہاما فرمایا ہے ” تیری نمازوں سے تیرے کام افضل ہیں کیونکہ عبادات محض خدا تعالیٰ کے لئے کی جاتی ہیں اور وہ خدا تعالی کا ہی حق ہوتی ہیں لیکن جو صحیح عمل حقوق العباد کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے اس میں حقوق اللہ کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ اس کی بناء خدا تعالیٰ کی رضا کی جستجو پر ہوتی ہے۔گو وہ عمارت تو حقوق العباد ہے لیکن جن بنیادوں پر اسے کھڑا کیا گیا ہے وہ رب کی تلاش ہیں۔اس لئے مَحْيَايَ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ کے مقام پر کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ اور بندے کے دونوں حقوق ادا ہو جاتے ہیں۔اس قسم کے اعمال ارتقائی تبدیلی اور تدریجاً انقلاب پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے نتیجہ میں مخلوق زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے اس لئے یہ اعمال صرف عبادت کا ماحول رکھنے والے اعمال کی نسبت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ مقبول اور زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں رہبانیت کو پسند نہیں کیا گیا اور نہ مسلمانوں میں پیدا ہونے والے لاکھوں خدا رسیدہ لوگ اگر انہیں اجازت دی جاتی تو وہ دنیا میں اپنی زندگی بسر نہ کرتے وہ پہاڑوں کی تنہائیوں میں نکل جاتے اور اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیتے لیکن جب بھی ان بزرگوں کا خیال اس طرف جاتا تو انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے لکھا ہوا ایک بورڈ نظر آتا کہ تم مجھے تنہائی میں نہیں بلکہ انسانوں کے مجمعوں میں تلاش کرو اس لئے وہ اس دنیا کی 66