مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 7
فرموده ۱۹۶۶ء د مشعل راه جلد دوم طرف آتے اور اپنی زندگی کا ہرلمحہ مخلوق کی خدمت میں محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرتے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جماعت جلد اس مقام کو حاصل کرلے جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ایک نازک دور میں داخل ہو گئے ہیں اور ہماری مثال ایک کوہ پیاسی ہے اور بلندیوں پر چڑھتے ہوئے پہاڑ کے بعض ایسے مقامات بھی آجاتے ہیں کہ جہاں وہ عمودی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس وقت کوہ پیما کو اپنے حواس اپنے ذہن اپنی استعدادوں اور اپنی قوتوں کو انتہائی طور پر صرف کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے وہ وقت انتہائی جد و جہد کا ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کے لئے بھی اس کی توجہ دوسری طرف ہوگئی تو اس کا پاؤں پھسل جائے گا اور وہ کسی کھڑ میں گر کر مر جائے گا کہ میں سمجھتا ہوں بالکل یہی مقام اس وقت ہمارا ہے۔ہمیں ایک بڑی لمبی اور عمودی پہاڑی اور ایک بڑے خطرناک راستے کو طے کرنا ہے اور یہ کام پوری جدوجہد اور کوشش کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اس لئے اپنے اس مقام اور وقت کو پہنچانتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی میں انتہائی جدوجہد اور کوشش سے لگ جائیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ حقوق اللہ میں سے سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اگر ہمارا ایمان پختہ ہے۔ہم احمدیت کو ورے یقین سے مانتے ہیں اور اسے پہچانتے ہیں تو ہمیں نظر آ رہا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا اور وہ آپ پر ایمان نہیں لائے وہ نار جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس نار جہنم سے انہیں بچانا ہمارا فرض ہے اور ہمارے سوا انہیں اس آگ سے کوئی بچا بھی نہیں سکتا۔کیونکہ ہم احمدی ہیں اور اس زمانہ میں یہ فرض خدا تعالیٰ نے ہمارے ہی ذمہ لگایا ہے غرض اس وقت ایک دنیا ہجوم کر کے جہنم کی طرف بڑھ رہی ہے۔اور ہم چند آدمی ہیں۔ہماری تعداد بہت قلیل ہے اتنے بڑے ہجوم کے ریلے کو ہم بھلا کس طرح روک سکتے ہیں۔اس ہجوم کے ریلے کو اس وقت روکا جا سکتا ہے۔جب پوری جدوجہد کی جائے۔میں پھر کہوں گا کہ ہمارے لئے آج بڑا نازک وقت ہے انتہائی کوشش کا وقت ہے۔انتہائی جدوجہد کا وقت ہے انتہائی مجاہدات کا وقت ہے۔انتہائی ایثار اور قربانی دینے کا وقت ہے اس وقت ہم نے ذرا بھی سستی کی تو نہ ہم اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس لعنت سے محفوظ رکھے اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق عطا کرے۔( بحوالہ روزنامه الفضل ۲۳ جون ۱۹۶۶ء)