مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 75

75 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد کو دیکھے گا۔ہماری قربانیوں کو قبول کرے گا۔تو وہ دن ہماری زندگی میں اپنے فضل سے لے آئے گا جس دن کیلئے صدیاں مسلمان تڑپتے آرہے ہیں۔اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور آخری فتح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ پیچ ہیں۔میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں:۔مجھے اس کی عزت کی اور جلال کی قسم مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو۔اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔اس کے فضل کے ساتھ مجھے کسی ابتلاء سے خوف نہیں۔اگر چہ ایک ابتلاء نہیں ، کروڑوں ابتلاء ہوں۔ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں:- پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے۔مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار باد یہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے۔نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب وشتم سے۔نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے“۔آپ نے فرمایا کہ جولوگ اس وقت کمزوری محسوس کرتے ہوئے مجھ سے الگ ہو جائیں گے۔یا درکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عنداللہ ایسی عزت نہیں ہوگی جو وفا دار لوگ عزت پاتے ہیں کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت بڑا داغ ہے۔(انوار الاسلام صفحه ۲۲) اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ (اول) میری روح ہلاک ہونے والی نہیں۔میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔اس لئے میں اس یقین پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے کہ وہ میری اور میری جماعت کی عاجزانہ کوششوں کے نتیجہ میں اسلام کو دنیا میں غالب کرے گا۔یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا کیونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں جن کو دنیا کی کوئی طاقت شکست دے سکے۔اور نا کام کر سکے۔