مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 74

دد مشعل را ل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 74 دلائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کا ہر قدم ہر صبح آگے ہی ہمیں نظر آتا ہے۔کسی شعبہ زندگی میں بھی ہم پیچھے نہیں رہتے۔صدر لجنہ اماءاللہ کو بھی لجنہ اماءاللہ کے اجتماع کے شروع ہونے سے ایک دن قبل یہ فکر تھا کہ کہیں امسال ہماری اماءاللہ ( ہماری وہ بہنیں جو لجنہ اماءاللہ کی ممبر ہیں) اجتماع میں گزشتہ سال کی نسبت کم تعداد میں شامل نہ ہوں۔چنانچہ انہوں نے اجتماع سے ایک دن پہلے یعنی جمعرات کی شام کو اپنے دفتر سے مجھے فون کیا کہ اس وقت تک جو بہنیں آچکی ہیں ان کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت کم ہے۔مجھے فکر ہے اس بات کی۔میں نے انہیں کہا کہ فکر نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فکر کرے گا اور پچھلے سال سے یہ تعداد بڑھ جائے گی۔چنانچہ ان کی جو کل کی رپورٹ ہے اور پھر آج دوپہر کی رپورٹ ہے اس میں انہوں نے یہ بتایا ہے کہ گزشتہ سال بیرون ربوہ کی ۴۰۰ کے قریب ممبرات لجنه اماءاللہ کے سالانہ اجتماع میں شامل ہوئی تھیں۔اس سال ان کی تعداد ۵۸۸ تک چلی گئی ہے۔یعنی قریباً چالیس فیصد اضافہ ہے۔یہ بھی بڑی خوش کن چیز ہے لیکن ان کو بھی میں کہوں گا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان اجتماعات میں کم از کم ایک نمائندہ تو ہر مجلس کا شامل ہونا چاہیئے تا کہ وہ واپس جا کے بتائے کہ اس نے کیا دیکھا۔کیا سنا۔کن ضرورتوں کو محسوس کیا۔ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کیا تجاویز پیش ہوئیں اور کس طرح سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے مبعوث فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ علیہ سے کہا تھا کہ ایک دفعہ عروج کے حصول کے بعد اسلام تنزل کے ایک دور سے گزرے گا۔اور پھر اسلام کا رب اور محمد رسول اللہ ﷺ سے پیار کرنے والا اللہ دوبارہ اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کیلئے آپ کے روحانی فرزندوں میں سے ایک عظیم فرزند کو کھڑا کرے گا اور اس کے ذریعہ سے اور اس کی جماعت کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا۔یہ بڑا ہی اہم کام ہے، یہ بڑا ہی مشکل کام ہے۔اتنا مشکل کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج دنیا میں اس سے زیادہ مشکل کوئی کام نہیں۔لیکن یہ کام ہو کر رہے گا۔کیونکہ ہمارا رب کہتا ہے کہ میں ایسا ہی کرنے والا ہوں لیکن ہمیں اس کیلئے بیحد قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔یہ نہیں کہ ہم آرام سے اپنے گھروں میں سوتے رہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے کے بعد بھی کوئی قربانی نہ دیں۔کوئی ایسی قربانی جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والی ہو۔یہ نہیں ہو سکتا۔ہمیں مشکل بیابانوں سے گزرنا پڑے گا۔ہمیں ہر چیز کو قربان کرنا پڑے گا۔ہمیں اپنی عزتوں، اپنے مالوں کو ہمیں اپنی خواہشات کو ہمیں اپنے آراموں کو، ہمیں اپنے سکون کو ہمیں اپنی اولاد کو، ہمیں اپنی بیوی اور بچوں کو خدا کے سامنے قربانی کے بکرے کے طور پر رکھ دینا پڑے گا اور سب سے پہلے اپنے نفسوں کو خدا کے سامنے رکھنا ہوگا۔جب اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں احساس۔