مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 548
فرموده ۱۹۸۱ء 548 د و مشعل را نعل راه جلد دوم جائیدادسپاہی پر خرچ کرتے تو پھر تو کوئی دلچسپی ان کے لئے نہ ہوتی تو ۱۰/ ۷ اس جائیداد کا وہ دس ہزار سپاہی پر خرچ کرتے تھے اور Fully Equipped اور Maintained وہ فوج اور ۱۰/ ۳ وہ اپنی ذات پہ خرچ کرتے تھے۔ان کا اپنا بھی ایک رعب ہونا چاہیئے تھا اتنے بڑے جرنیل کا۔تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا۔ہو سـمـكـم المسلمين (الج : ۷۹) اس نے تمہارا نام مسلمان تو ایک مسلمان بڑا ہی نادان اور ناسمجھ ہوگا اگر وہ یہ سمجھے کہ ایک بادشاہ تو جب دس ہزاری کا عہدہ دیتا تھا تو دس ہزار کی پرورش کے لئے جائیداد بھی دیتا تھا اور خدا جب مسلمان کا مقام کسی کو عطا کرے اپنی رحمت سے تو وہ قوتیں اسے عطا نہ کرے جو ایک مسلمان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے چاہیں۔جن کی اسے حاجت ہے اور وہ بشارتیں نہ دے جو اس ایثار اور قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پیار کو ظاہر کرنے کے لئے دیتا ہے اور جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔قرآن کریم کی عظمت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ محض یہ نہیں کہا کہ المسلمین خدا تمہیں مسلمان کہتا ہے اور بناتا ہے۔کسی انسان کا کام ہی نہیں کہ کسی کو مسلمان یا غیر مسلم بنائے یہ اعلان کیا گیا ہے اس آیت میں ھو سمکم المسلمن اور ساتھ یہ کہا کہ یہ جو قرآن ہم دے رہے ہیں بنیادی طور پر دو چیزیں اس کے اندر پائی جاتی ہیں:۔هدی۔ایک تو جو میری نگاہ میں مسلمان ہوں گے میری رحمت کے نتیجے میں فضل کے نتیجہ میں ان کی ہدایت کے سارے سامان اس قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔و بشرى للمسلمين۔اور یہ قرآن ان مسلمانوں کے لئے بشارتوں سے بھرا ہوا ہے جو میری نگاہ میں مسلمان ہیں اور جن کو میں مسلمان کہتا ہوں۔وہ مضمون میرے ذہن میں آیا ہے۔میں جمع کر رہا ہوں۔اپنے خیالات کو اور حوالوں کو قرآن کریم کی آیات سے ہی۔میرا خیال ہے پچاس ہو، ڈیڑھ سو پتہ نہیں کتنی وہ بشارتیں ملیں گی۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کہ جو خدا کی نگاہ میں مسلمان ہوگا فرشتوں کا اس پر نزول ہوگا۔کوئی انسان کسی کو مسلمان کا لقب دے کے تو فرشتوں کو حکم دے سکتا ہے کہ اس کے اوپر نازل ہوا کرو۔دے ہی نہیں سکتا یعنی کسی انسان کا کام ہی نہیں دوسرے کو مسلمان بنانا۔مسلمان خدا تعالیٰ کی نگاہ میں یا مثلاً انتم الاعلون ان کنتم مومنین (آل عمران (۱۴۰) ہر شعبہ زندگی میں بالا دستی اے مسلمانو تمہاری رہے گی۔ایک شرط ہے ایمان کے تقاضے پورے کرتے چلے جاؤ۔وہی مسلمان حقیقی مسلمان کے لئے بشارت اتنی زبر دست ہے کوئی حد نہیں۔غلبہ۔غلبہ آرٹ کے میدن میں بھی۔غلبہ علم کے میدان میں بھی ، غلبہ اخلاق کے میدان میں بھی ، غلبہ خدمت کے میدان میں بھی۔ہر شعبہ زندگی میں بالا دستی مسلمان کو ملے گی۔حقیقی مسلمان کو۔جس کو نہیں ملتی اس کو اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ جھوٹ تو نہیں بولتا۔خدا تعالی بد عہدی تو نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ بے وفائی تو نہیں کرتا۔جو وہ کرتا ہے اس کے لئے کوئی مشکل نہیں۔میرے اور