مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 547
547 فرموده ۱۹۸۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد سے یہ سلوک کر رہا تھا واقعہ میں کمیونسٹ چیکوسلواکیہ کو ان گولیوں کی ان Bombs کی ، ان توپ کے گولوں کی ضرورت تھی جس کا اعلان کیا گیا تھا۔تو ہماری عقل کہے گی، آپ کی عقل کہے گی۔ہر سوچنے والے کی عقل کہے گی نہیں۔اس کی ضرورت نہیں تھی ان کو۔اسلام کا نور اور قوت تو میں کہتا ہوں یہ سلوگن نہیں ہے کہ قرآن کریم سے ہر چیز جو ہے وہ نکلتی ہے۔میں باہر جاتا ہوں۔بڑے ان کے دنیوی جو چوٹی کے دماغ ہیں ان سے میری ملاقات ہوتی ہے ہمیشہ ہی ہوتی ہے۔گزشتہ برس تو خاص طور پر میں نے تاکید کی تھی کہ مجھ سے تقریریں نہیں کرواؤ گے تم بلکہ اپنے اپنے ملک کے جو چوٹی کے دماغ ہیں ان سے میری ملاقات کرواؤ تا کہ میں ان کو بتاؤں کہ اسلام کس قدر عظیم مذہب ہے۔کتنا نور اس میں پایا جاتا ہے۔کتنا حسن اس کے اندر ہے کتنی قوت احسان اس میں ہے۔بلا امتیاز عقیدہ ہر ایک کی خدمت میں لگا ہوا ہے یہاں تک کہ جو اللہ تعالیٰ کے شریک بنانے والے ہیں ان کو تنبیہہ بھی کرتا ہے اور یہ اعلان بھی کرتا ہے ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله (الانعام : ۱۰۹) بتوں کو برا بھلا نہیں کہنا، گالی نہیں دینی بت کو۔تو یہ عظمت ہے قرآن عظیم کی۔تو اس سے تو آپ ہر روز برکت لے سکتے ہیں۔برکت سلوگن والی نہیں۔ایسی برکت جو آپ کی زندگی میں اور وجود میں نور اور حسن اور قوت احسان اور ایثار اور بے لوث خدمت کا جذبہ پیدا کرنے والی ہو۔تو اس بنیادی چیز کو یادرکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان تمام برکات کا وارث بنائے جو ایک مسلمان بنا کرتا ہے خدا تعالیٰ کی رحمت سے اور وہ تمام بشارات جو قرآن کریم نے ایک مسلمان کو دی ہیں وہ اس کے حامل ہوں آپ۔ہمارے جو بزرگ مسلمان بادشاہ تھے ان کا یہ قاعدہ تھا ( ہمارے مغل بادشاہ بھی گزرے ہیں۔بابر ہے ، کہ ہے ، ہمایوں وغیرھم ہیں ان کا قاعدہ تھا کہ یہ بڑے جرنیل کو بلا کے کہتے تھے کہ میں نے تجھے دس ہزاری کا عہدہ اور مقام دیا۔جس کا مطلب تھا کہ تو دس ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج رکھ سکتا ہے۔یہ دس ہزاری کے عہدے کا یہ مطلب تھا۔کسی کو سات ہزاری کا کسی کو پانچ ہزاری کا کسی کو تین ہزاری کا ، اسی طرح وہ عہدے دیتے تھے۔لیکن جس کو دس ہزاری کا عہدہ دیتے تھے اسے اتنی جائیداد بھی دیتے تھے کہ جس سے وہ دس ہزار فوج کو پال سکے۔تو وہ اس کے ساتھ یہ لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔عقل بھی یہی کہتی ہے ورنہ تو یہ ایک گڑیا اور گڈے کا کھیل بن جائیگا نا۔دس ہزار گڈے بھی نہیں رکھ سکتا بغیر اس جائیداد کے کوئی شخص۔اس کے اوپر بھی بڑا خرچ ہو جائے دس ہزار گڈوں پر۔اس نے تو دس ہزار انسانوں کو پال کے، ان کی صحت کو قائم رکھ کے، ان کی قوت برداشت کو بڑھا کر ، ان کی صبر کی طاقت میں ازدیاد پیدا کر کے، ان کو ان کی اتنی مشق کروا کے کہ دنیا میں کوئی ویسا سپاہی نہ ہو اس قسم کا وہ سپاہی چاہتے تھے۔اس کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ جائیداد میں دے دیتے تھے۔جائیداد کا میں نے سوچا ساری