مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 52
فرمودہ ۱۹۶۷ء 52 د دمشعل را قل راه جلد دوم کرنے والے کی طرف رجوع کرو۔اگر تم ایک ہولناک تباہی سے بچنا چاہتے ہو۔کروڑوں آدمیوں کے کانوں میں ریڈیو کے ذریعہ میری یہ آواز پہنچی اور اس کے علاوہ کروڑوں آدمیوں نے ٹیلی ویژن پر میری شکل کو دیکھا۔اور میری آواز کی اس کثرت سے اشاعت ہوئی کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قسم کے حالات اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پیدا کر دے گا اور ہمارے وہم اور ہمارے اندازے تو محدود ہیں جہاں وہ پہنچے ہیں اس سے کہیں آگے غیر محدود حد تک اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جلوے ظاہر ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہر لحظہ اور ہر آن اپنے قادر ہونے اپنے مالک ہونے کا ثبوت دنیا کو دکھایا۔دنیا اندھی ہے شائد انہوں نے دیکھا تو ہومگر سمجھے نہ ہوں۔لیکن ہم نے دیکھا بھی اور سمجھا بھی کہ خدا اپنے بندوں سے کس طرح پیار کا سلوک کرتا ہے اور ہمارا سر اس کے حضور جھکا ہوا ہے اور ہماری روح گداز ہے اور ہمارے جسم کے ذرہ ذرہ سے اس کی حمد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ہمارے سارے پروگرام کی بنیاد غور کی بات یہ ہے کہ جب ہم دنیا میں جاتے ہیں۔اور مختلف اقوام کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں اور وہ اپنے رب کے مقام کو پہچانتے ہوئے خشیت اللہ اور خوف خدا اور تقویٰ اللہ اپنے دلوں میں پیدا کر یں۔تو ہمارے لئے خود کتنا ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم پہلے اپنے نفسوں کو دیکھیں اور ٹولیں اور معلوم کریں کہ کیا واقعی ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف۔ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہمارے دلوں میں تقویٰ اس حد تک مستحکم ہو چکا ہے کہ جتنا ایک احمدی مسلمان کے دل میں ہونا چاہیئے اور اگر نہیں تو پھر تدبیر و مجاہدہ کے ذریعہ بھی اور دعا کے ذریعہ بھی اس خوف کو اللہ تعالیٰ کی اسی خشیت کو اللہ تعالیٰ کے لئے اس تقومی کو اپنے دلوں میں مضبوط کرنے کی کوشش کریں اور اسی طرف میں آپ کو آج متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سارے پروگرام کی بنیاد یہ ہے جس پر ہم اپنی عمارت کو کھڑا کر سکتے ہیں۔خشیت اللہ کا مفہوم میں نے دیکھا ہے بہت سے ہم میں سے خشیت اللہ یا اللہ کے خوف کا لفظ یا فقرہ استعمال تو کرتے ہیں مگر خود انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے کیا معنے ہیں۔مثلاً ایک شخص اپنے بھائی کو بڑی رعونت کے ساتھ یہ لکھ دیتا ہے کہ میں سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا حالانکہ یہ فقرہ بتارہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے بھی نہیں ڈر رہا۔کیونکہ اللہ سے ڈرنے کا وہ مفہوم نہیں ہے جو ایک شیر یا بھیڑیے سے ڈرنے کا مفہوم ہے۔ایک بھیڑیا بھیٹر کے سامنے جب آتا ہے تو اس بھیڑ کے دل میں خوف کی ایک حالت پیدا ہوتی ہے۔لیکن خشیت اللہ سے ہماری یہ مراد نہیں۔نہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہماری یہ مراد ہے وہاں تو مراد ہی کچھ اور ہے۔پس جو شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور سے نہیں ڈرتا۔اگر وہ اس فقرہ کے معنی کو سمجھتا ہو تو وہ یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ میرے جیسا دنیا میں