مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 51

51 فرمودہ ۱۹۶۷ء دومشعل راه جلد دوم ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۷ء مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے چالیسویں سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جو تقریر فرمائی تھی اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور نے اجتماعی دعا سے قبل فرمایا: - اپنے رب کریم اور جی و قیوم خدا کے لئے ہی ہماری زندگیاں وقف ہیں اور اس کے نام سے اور اس کے حضور عاجزانہ جھکتے ہوئے دعاؤں کے ساتھ ہم اپنے اس اجتماع کا افتتاح کرتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی اور پر سوز دعا کروائی۔دعا کے بعد حضور نے خدام سے ان کا عہدد ہروایا۔پھر ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ نکاح سے قبل حضور نے فرمایا: - اس وقت میں جو باتیں اپنے عزیز بچوں اور بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں۔ان سے قبل میں ایک نکاح کا اعلان کروں گا۔جمعہ کے وقت میں نے یہ اعلان کرنا تھا لیکن چونکہ ابھی فارم مکمل نہیں ہوا تھا۔اس لئے اس موقعہ پر میں یہ اعلان نہیں کر سکا۔اس وقت میں اس نکاح کا اعلان کروں گا اور پھر اپنے عزیز بھائیوں کے سامنے بعض باتیں رکھوں گا۔اس کے بعد حضور نے نکاح کا اعلان فرمایا اور خطبہ نکاح میں چند مختصر مگر اہم نصائح فرمائیں اور پھر رشتہ کے با برکت ہونے کے لئے دعا کروائی۔اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل خطاب فرمایا۔میرے بہت ہی عزیز بچو اور بھائیو! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے یورپ کا دورہ اس غرض سے کیا تھا کہ وہ اقوام جو اپنے رب کو بھلا چکی ہیں۔اس سے دور ہو گئی ہیں خالق کی محبت ان کے دلوں میں ٹھنڈی ہو چکی ہے ان کو نصیحت کروں۔اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسلام کو غالب کرے گا محبت کے جلووں سے اگر دنیا محبت کے جلووں کی قدر کرے اور قہری نشانیوں سے اگر وہ محبت کے جلووں کی بجائے اللہ تعالیٰ کے قہری نشان ہی دیکھنے پر تلی ہوئی ہو۔چنانچہ الہی بشارت اور اس کے اذن سے اس سفر کو اختیار کیا گیا اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا ایسے سامان پیدا ہوئے کہ ان لوگوں کی ان اقوام کی توجہ ان باتوں کے سنے کی طرف اور سمجھنے کی طرف پھری جو میں خدا اور اس کے محمد ﷺ کے نام پر انہیں کہہ رہا تھا۔کروڑوں انسانوں کے ہاتھ میں وہ اخبار پہنچے۔جن میں یہ ذکر تھا کہ میں اس دورہ پر اس لئے آیا ہوں کہ ان اقوام کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلاؤں اور انہیں بتاؤں کہ اپنے پیدا