مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 509 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 509

509 فرموده ۱۹۷۹ء دو مشعل راه جلد دوم ہیں سست ہو جاتے ہیں اور ان مربی اصحاب کو ایک منٹ کیلئے بھی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی حالانکہ ان کی تو نیندیں حرام ہونی چاہئیں اگر کسی جگہ وہ سنتی اور کمزوری اور کوتاہی دیکھیں۔یہ سب باتیں اپنی جگہ درست لیکن یہ بھی درست ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ کوئی ایسی جماعت نہ رہے جس کا کوئی نمائندہ اس اجتماع میں شامل نہ ہو۔اس لئے میں امرائے اضلاع کو اور مربی صاحبان کو اور ان کو جو ان لوگوں کی نگرانی کرنے والے ہیں یہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ذمہ دار ہیں اس بات کے کہ ہر جماعت سے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں نمائندہ آئے۔اگر چھوٹی جماعت ہے ایک نمائندہ آئے مگر آئے ضرور۔ہر جماعت سے انصار اللہ کے اجتماع میں نمائندہ شامل ہو خواہ ایک ہی ہوا گر وہ چھوٹی جماعت ہے لیکن آئے ضرور۔ہمارے اجتماعات کی غرض ہمارے یہ اجتماع دنیوی میلے نہیں۔یہ اجتماع ذہنی اور اخلاقی تربیت کیلئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ذہنی تربیت کیلئے اس معنی میں کہ بہت سی نیکی کی باتیں شامل ہونے والوں کے کانوں میں پڑتی ہیں اور ذہنوں میں جلا پیدا ہوتا ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس معنی میں کہ اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے خدام وانصار کو کہ حقیقی مسلمان بننے کی کوشش کرو۔(خُلُقُه القرآن) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایک نمونہ ہیں آنے والی نسلوں کیلئے معنی میں کہ آپ کے اندر دو خصوصیات نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں۔ایک آپ حنیف تھے دوسرے آپ مسلم تھے۔حنيفاً مسلماً ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور جھکے رہنے والے اور ہردم اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے والے اطاعت کرنے والے۔یہ نمونہ ایسا ہے جسے نظر انداز آنے والی نسلیں بھی نہیں کر سکتیں۔نمایاں طور پر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں یہ دو باتیں قرآن عظیم کے بیان کے مطابق پائی جاتی ہیں۔حنیفاً مسلماً۔آپ کی زندگی کے متعلق تو اس وقت میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔مختصر کہنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے قریب تر دو گروہ ہیں ایک وہ جو آپ پر ایمان لائے اور آپ کی جماعت میں شامل ہو گئے اور ایک و گر وہ جو محمد ﷺ پر ایمان لایا اور امت مسلمہ میں شامل ہوا۔نبی اکرم ﷺ کی بعثت کیلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور نوع انسانی کی خاطر عاجزانہ دعائیں بھی کیں اور نبی اکرم یا اللہ کی عظمت ان کے سامنے صلى الله بیان کی اور غور سے دیکھا جائے تو صدیوں صدیوں اپنی نسل کو اس بات کیلئے تیار کیا کہ جب محمد ہے جیسا وجود پیدا ہو تو اسے قبول کریں اور اس قابل ہو جائیں اس عرصہ میں کہ جو ذمہ داریاں کامل طور پر ایک کامل کتاب کے نازل ہونے کے ساتھ امت مسلمہ پر پڑنے والی تھیں جن کے پہلے مخاطب یہ لوگ ہونے والے تھے ان کو اٹھانے کیلئے وہ تیار ہوں۔صلى الله