مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 493

493 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد سارے انسانوں کی عقل اس حقیقت تک نہیں پہنچتی تھی۔اس لئے کہا گیا فيها كتب قيمة خود قرآن کریم نے اس کے کچھ اور معنے گئے ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ اس نے ماقبل شرائع سے لے کر اپنے یہ صداقتیں نہیں رکھیں بلکہ ان شرائع کے اندر قرآن کریم سے لے لے کر صداقتیں رکھی گئی تھیں۔چنانچہ اس حقیقت کی طرف سورہ آل عمران کی ۲۴ ویں آیت اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- اوتو انصيبا من الكتب پھر اسی آیت میں آتا ہے کہ جب ان کو اسی الکتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔یہودیوں کی اپنی کتاب یعنی موسوی شریعت میں قرآن کریم کی صداقتوں کا ایک حصہ رکھا گیا اور اس پر وہ فخر کرنے لگ گئے لیکن جس کامل کتاب کا وہ حصہ تھا جب اس کی طرف ان کو بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ تو بڑی نا معقول بات ہے کہ جو چھوٹا سا حصہ قرآن کریم کا تھا اس پر وہ (یہود ) ناز کرنے لگ گئے اور جب کامل اور مکمل قرآن ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا یہ کہتے ہوئے کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں۔اگر اس کامل کتاب کی انہیں ضرورت نہیں تو او تسوانصيبا من الکتب کی رو سے انہیں اس کا جو حصہ ملا اس کی بھی پھر انہیں ضروت نہیں رہتی۔پس اگر چہ عام انسانوں کو سمجھانے کے لئے قرآن کریم نے اس قسم کے محاورے استعمال کئے ہیں لیکن اصل حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے جو باتیں بیان کرنی چاہیے تھیں وہ خود قرآن کریم کے اندر موجود ہیں۔قرآن کریم اپنی تفسیر اور اپنی عظمت اور شان کے اظہار کے لئے کسی کا محتاج نہیں ہے۔وہ خود اپنی تفسیر کرتا ہے اور اپنی عظمت اور شان کو ظاہر کرتا ہے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق فرمایا ہے۔دوسری طرف فرمایا:۔فيها كتب قيمة اوتو انصيبا من الكتب یعنی اہل کتاب کی کتب مقدسہ میں قرآن کریم کا ہی ایک حصہ موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کی تشریح میں بہت مثالیں دی ہیں۔ایک مثال آپ نے یہ دی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم کی تعلیم کا یہ حصہ دیا گیا: جزاء سيئة سيئة مثلها اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے وقت یہود کی حالت بڑی کمزور تھی۔وہ بزدل