مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 481
481 فرموده ۱۹۷۸ء دو مشعل راه جلد دوم گا۔جب یاد نہیں رکھے گا تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔یہ ایک موٹی بات ہے۔یہ کوئی فلسفہ تو نہیں کہ بچوں کی سمجھ میں نہ آسکے۔پس توجہ کو قائم رکھنے کے لئے بھی اپنی طاقت اور صحت اچھی ہونی چاہیئے۔پھر اخلاق اچھے ہونے چاہئیں اخلاقی لحاظ سے تمہیں نہایت عمدہ نمونہ دکھانا چاہیئے۔ایسا عمدہ نمونہ کہ دنیا دیکھے اور حیران ہو کہ اچھا یہ احمدی ہے اس کے اتنے اچھے اخلاق ہیں۔اسلام امن اور آشتی کا مذہب ہے۔اسلام ہمدردی اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔اسلام خدمت خلق کا مذہب ہے اسلام خدمت خلق کا مذہب ہے اسلام پیار اور صحت کا مذہب ہے۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ کسی آدمی سے دشمنی نہیں کرنی۔ہر ایک کی خیر خواہی کرنی ہے وہ چاہے جو مرضی کرتا رہے۔تم میں سے اکثر بچے ایسے ہوں گے جن کو پتہ نہیں کہ ہے، میں جماعت احمدیہ پر کیا حالات گزرے تھے۔تاہم ایسے بچے بھی موجود ہیں جن کو پتہ ہے کہ میں نے اس وقت جماعت سے کہا تھا کہ جو بھی حالت تم پر گزرے تم نے کسی سے غصہ نہیں کرنا بلکہ ہنتے رہنا ہے اور دعائیں کرتے رہنا ہے۔جماعت احمد یہ خدا کی ایسی پیاری جماعت ہے۔یہ جو تمہارے بڑے ہیں تمہاری طرح بچے تھے لیکن انہوں نے نیکی کی باتیں سن سن کر ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ ہمارے مخالفین حیران ہو گئے اور یہ باتیں کرتے ہوئے سنے گئے کہ یہ عجیب قوم ہے۔ہم ان کو دکھ پہنچارہے ہیں اور یہ ہیں کہ ان کے چہرے پر غصے اور دشمنی کا کوئی اثر نہیں۔مخالفتوں میں بھی وہ ہنستے اور مسکراتے رہے اور دعائیں دیتے رہے۔ہمیشہ مسکراتے ہیں ان ہی دنوں ایک دفعہ ہمارے دو مبلغین کو ۲۵-۳۰ آدمیوں نے اتنا مارا کہ ان کا منہ سوج گیا اور ان کی گردن فٹ بال کی طرح موٹی ہوگئی۔ان میں سے ایک میرے پاس آیا۔میں نے کہا دیکھو! میں کہا کرتا ہوں مسکراتے رہو اب بھی میں تمہیں کہتا ہوں مسکراتے رہو۔تم ایک بات یادرکھو جو ورم تمہاری گردن اور چہرے پر ہے یہ ۴۸ گھنٹے کے اندر اندر دور ہو جائے گی لیکن جو خوشی ہمیں خدا نے پہنچائی ہے وہ تو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ہمیں خدا نے یہ کہا ہے کہ تم خوش ہو اور اس لئے خوش ہو کہ اسلام کی تازگی اور اس کے غلبہ کے دن آگئے ہیں تو اگر یہ بشارت موجود ہے اور اسلام کی تازگی اور غلبہ کے دن آچکے ہیں تو پھر ہم خواہ مخواہ روئیں اور منہ کیوں بسور ہیں۔پھر ہمیں کس بات کا غم اور کس چیز کا غصہ۔ہم تو اسی طرح مسکرا ئیں گے جس طرح خوشی کے وقت مسکراتے ہیں۔خیر میں نے اس کو تسلی دی اور وہ چلا گیا۔لیکن اس نوجوان مبلغ کے ذہن پر اتنا اثر تھا کہ گھڑی دیکھ کر پورے ۴۸ گھنٹے کے بعد میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں اس لئے ملنے آیا ہوں کہ آپ دیکھ لیں آپ نے کہا تھا کہ تمہاری ورم ۴۸ گھنٹے کے اندر دور ہو جائے گی۔اب دیکھ لیں نہ میرے چہرے پر ورم باقی ہے اور نہ میری گردن پر۔میں نے کہا