مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 396
396 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم اجتماع ہے اور خدام کے ساتھ اطفال الاحمدیہ کا اجتماع ہے، لجنہ اماءاللہ کا اجتماع ہے اور پھر انصار اللہ کا اجتماع ہے جس میں جماعت کے چھوٹے اور بڑے بچے اور بوڑھے مرد اور عورت سب کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلا کر آگے سے آگے بڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔چنانچہ میری اس تحریک پر گزشتہ چھ ماہ میں جماعت نے جو کوشش کی وہ اگر چہ ایسی تو نہیں کہ اس کے متعلق ہم یہ کہ سکیں کہ جماعت نے بحیثیت مجموعی کوشش کا حق ادا کیا ہے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض ضلعوں نے اس میں کوشش کا حق ادا کیا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں ضلع سرگودھا کو لیتا ہوں۔ضلع سرگودھا میں کل گاؤں ۱۰۷۸ ہیں ان کے کہنے کے مطابق ۱۰۳۹ ہیں ) اور ضلع سرگودھا کی جماعت کے سائیکل وفود نے ۱۰۷۸ گاؤں میں سے ۱۰۳۹ گاؤں سے اپنا ملاپ قائم کیا۔ان کے ممبران سائیکل وفود کی مجموعی تعداد ( غالباً ایک سے زائد دفعہ گئے ہوں گے ) ۳۱۶۳ ہے۔اور ان گاؤں یا قصبوں میں وہاں کے جن سرکردہ لوگوں سے انہوں نے باتیں کیں اُن کی تعداد ۶ ۳۹۷ ہے۔پھر اس عرصہ میں انہوں نے جو فاصلہ طے کیا، وہ ۶۱۹۲ میل ہے اور ابھی ان میں تیرہ رپورٹیں غیر معینہ ہیں۔جہاں تک سرگودھا کی جماعتوں کا تعلق ہے وہاں ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں احمدیوں کے ایک ایک دو دو گھرانے آباد ہیں۔لیکن ابھی تک ایسی جگہوں پر جماعتیں قائم نہیں ہو سکیں اور بہت سے دیہات میں با قاعدہ جماعتیں قائم ہیں۔اس سے ہمارے سامنے یہ چیز آئی کہ اس ضلع میں ابھی تبلیغ میں وسعت پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے۔تاہم صحیح صورت حال ہمارے سامنے آ گئی اور اب ہمارے لئے خدمت خلق کے طور پر منصوبے بنانے کے لئے آسانی ہوگئی۔اور دوسرے اس سے یہ بات بھی نمایاں ہو کر سامنے آگئی کہ سرگودھا کی جماعتوں نے ضلع بھر کے ۱۰۶۸ گاؤں میں سے ۱۰۳۹ گاؤں کا سائیکلوں پر دورہ کر کے بڑی ہمت کا ثبوت دیا ہے۔گوان کا کہنا یہ ہے کہ جو نقشہ ان کے پاس ہے اس کے حساب سے صرف ۱۰۳۹ء گاؤں ہی ہیں۔دوسرے نمبر ضلع تھر پار کر آیا ہے۔ضلع تھر پارکر میں کل ۱۳ے گاؤں ہیں جن میں سے ۴۰۹ گاؤں میں ہمارے سائیکل سوار وفود گئے اور وہاں کے لوگوں سے ملاپ کیا۔جماعتوں کی تعداد کے لحاظ سے ان کا کام بڑا اچھا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اس کام کوسو فیصد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ربوہ کے ذمہ تحصیل چنیوٹ لگائی گئی تھی جس کے ۳۵۸ گاؤں ہیں جن میں سے ۱۴۱ گاؤں کاربوہ کے خدام نے سائیکلوں پر دورہ کیا لیکن اس میں وہ گاؤں شامل نہیں جن تک سیلاب کے دنوں میں ربوہ کے نوجوان بڑی ہمت سے اور انتہائی قربانی کی مثالیں کرتے ہوئے پہنچے اور انہوں نے اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی ہر قسم کی مدد کی۔سیلاب زدہ علاقے چونکہ اس رپورٹ میں شامل نہیں وہ ایک علیحدہ سکیم تھی ورنہ ربوہ کا ملاپ عملاً بہت زیادہ گاؤں کے ساتھ ہو گیا ہے۔ضلع لائل پور کے ۱۳۵۹ گاؤں ہیں۔گویا لائل پور کے گاؤں سرگودھا سے زیادہ ہیں۔لیکن دورہ سرگودھا نے