مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 395
فرموده ۱۹۷۳ء 395 د دمشعل ر ن راه جلد دوم اخرجت للناس “ ہو۔اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو گو یا بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے دنیا میں پیدا کیا ہے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہر ملک اور ہر ملک کے ہر شہر اور ہر قصبے اور ہر آبادی کیساتھ ہمارا ایک زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والا ملاپ ہونا چاہیئے۔ورنہ ہم ان کے لئے عملاً خیر اور بھلائی کے سامان پیدا کر ہی نہیں سکتے۔کیونکہ جس شخص کو آپ جانتے ہی نہیں یا جن لوگوں کے مصائب جن کی مشکلات اور جن کی ضرورتوں کا آپ کو علم ہی نہیں ہے یا جن کے حالات آپ کی نظر سے اوجھل ہیں ان کے لئے آپ بھلائی کا ذریعہ نہیں بن سکتے کیونکہ آپ نے اپنی بھلائی کا دائرہ عوام الناس تک نہیں پھیلایا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ وہ امت ہے جو اخرجت للناس ہے۔امت مسلمہ دنیا کے عوام کی بھلائی اور خیر خواہی اور خدمت اور ہمدردی کے لئے قائم کی گئی ہے۔گویا حضرت نبی اکرم ﷺ کیساتھ تعلق رکھنے والی امت کا یہ مقصد قرار دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے خیر اور بھلائی کو اپنا شعار بنائے۔پس اس تحریک کی بنیادی غرض یہی تھی کہ ہم (احمدیوں کو ) اور خصوصاً احمدی نوجوانوں کو چاہیئے کہ گاؤں گاؤں اور قصبے قصبے اور ڈیرے ڈیرے پر پہنچیں اور لوگوں سے ملاپ کریں اور ملاپ کے بعد پھر جب ان کے ساتھ مل بیٹھیں تو ان سے کہیں کہ اگر کوئی کام ہو تو وہ ہمارے پاس آئیں ہم ان کی مدد کریں گے۔یہ بھی پتہ کریں کہ اگر کوئی ایسا غریب آدمی ہے جو کھانے کا محتاج ہے تو اس کے کھانے کا انتظام کریں اور اگر کوئی شخص بیمار ہے اور علاج کروانا چاہتا ہے تو اس کے لئے دو مہیا کریں۔مجلس مشاورت کی اہمیت غرض یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی ابتداء میں نے اس علان کے ساتھ کی تھی کہ احباب جماعت خصوصاً نو جوان پاکستان کے ہر شہر ہر قصبہ اور ہر گاؤں سے سائیکل کے ذریعہ ملاپ کریں۔اس غرض کے لئے چھ ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا تھا۔یہ تھوڑا عرصہ ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن میں نے عمد ا تھوڑا عرصہ مقرر کیا تھا کیونکہ مشاورت کے بعد مشاورت تک انتظار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مشاورت ایسا موقع ہوتا ہے جہاں ہم اس قسم کے کاموں کا جائزہ لیں۔لیکن آج چونکہ خدام الاحمدیہ ہمارے سامنے بیٹھے ہیں اور ہر جگہ سے اپنے اجتماع میں شمولیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔یہاں ہم کھیلوں کی بھی باتیں کرتے ہیں۔ہم خدام کو کچھ ذہنی نشو ونما کے لئے بھی بتاتے ہیں۔خدام کی روحانیت کو اور زیادہ بلند کرنے کے لئے ہماری کچھ تمنائیں ہوتی ہیں جن کا ہم یہاں اظہار کرتے ہیں اور کچھ نیکی کی راہیں ہیں جن کی ہم نشاندہی کرتے ہیں۔لیکن مشاورت کا یہ ماحول نہیں ہوتا اس میں تو ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے جو جماعتی منصوبے ہیں ان کے متعلق بہت سی باتیں ایجنڈے پر ہوتی ہیں جن پر مشاورت کے دوران غور کیا جاتا ہے۔غرض مشاورت کا ماحول ان اجتماعات کے ماحول سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔اس لئے ہم نظیمی کاموں کا جائزہ بالعموم اجتماعوں کے موقعہ پر لیتے ہیں۔مثلاً خدام الاحمدیہ کا