مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 378

378 فرموده ۱۹۷۳ء دو مشعل راه جلد دوم میں ذلیل ہو گئے۔وہ عزت و شرف ہمیں حاصل نہیں ہوا جو قرآن دینا چاہتا تھا۔لیکن آپ میں سے کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت کے ساتھ ان چیزوں پر روشنی ڈالی۔اور ہمیں ان کی طرف بلایا ہے آخر اور کس چیز کی طرف آپ لوگوں کو بلا رہے ہیں ؟۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کو محض اس طرف بلا رہے ہیں کہ خدا جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور حضرت محمد ﷺے جنہوں نے اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی صفات کے نمونہ کے طور پر تمہارے سامنے پیش کیا ہے۔اُس خدا کی طرف اُس محسن کی طرف نہیں محسن اعظم کی طرف آؤ۔تا کہ تمہارے لئے بھی دنیاوی عزت و شرف کے سامان پیدا ہوں۔یہی وہ حسین راہ ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بلا رہے ہیں۔آپ نے ہر چیز کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔آپ کے خلفاء آپ کو ان چیزوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اور جماعت کے بزرگ بھی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ آپ کو اس طرف بلاتے ہیں۔آپ کے پاس پہنچتے ہیں۔آپ کے گاؤں میں جاتے ہیں۔پیار کا پیغام لے کے جاتے ہیں تا کہ آپ ایک دوسرے سے پیار کریں علم کے تحفے لے کر جاتے ہیں تا کہ آپ دوسروں کو علم سکھائیں وہ الا ماشاء اللہ دن رات ایک کر کے محنت اور مشقت کا سبق آپ کو دیتے ہیں اور آپ کو دنیا کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کرتے ہیں۔کہ دیکھو چین اتنا آگے نکل گیا۔امریکہ اتنا آگے نکل گیا۔ہم نے دنیا میں بھی ان سے پیچھے نہیں رہنا ہم نے آگے نکلنا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے مثلاً علم کے میدان میں ہمیں عقل عطا فرمائی ہمارے ڈاکٹر سلام ہیں ہمارے اور بھی بہت سارے دوست ہیں لیکن چونکہ عام طور پر لوگ ڈاکٹر سلام کو جانتے ہیں۔اس لئے ان کی مثال دے دیتے ہیں۔غرض جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے بڑے اعلیٰ دماغ دیئے ہیں۔شاید کوئی ان میں سے ضائع ہو گیا ہو۔اس پر ہمیں انا للہ وانا اليه راجعون پڑھنا پڑے۔لیکن ڈاکٹر سلام ایک مثال ہیں اس بات کی کہ تم اگر کوشش کرو گے تو ڈاکٹر سلام بن جاؤ گے۔اعلیٰ درجہ کے سائنسدان بن جاؤ گے۔سوشل ویلفیئر یعنی بھلائی کے کاموں میں اعلیٰ پایہ کے انسان بن جاؤ گے۔کنتم خير امة اخرجت للناس کی رو سے ہم سے زیادہ بھلائی کے کام اور کون کرنے والا ہو سکتا ہے۔ہم بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کرنے والے ہیں پہلے بھی میں بتا چکا ہوں کہ ہم تو بھلائی کے کام اس طرح بھی کرتے ہیں کہ جب ۵۰ء میں لاہور میں سیلاب آیا تو ضلع کے اکثر مقامات چھوٹے چھوٹے جزیرے بن گئے۔جن میں خوردونوش کے سامان کی کمی ہو گئی۔تو حکومت وقت نے ہمیں کہا کہ ان لوگوں کے لئے بھنے ہوئے چنے اور پکی ہوئی روٹیاں اکٹھی کرو تا کہ ہوائی جہاز کے ذریعہ گرائی جائیں۔چنانچہ ہمارے کالج کے کچھ طلبہ لاہور شہر کے اندر گئے۔کچھ لوگ کہنے لگے تم مرزائی کہاں سے آگئے کل پھر آئے تو ہم تمہیں ماریں گے۔وہ آئے اور بتایا کہ اس اس طرح لوگ کہتے ہیں۔میں نے سے کہا کل تم پھر وہیں جاؤ گے اور مار کھانے کی نیت سے جاؤ گے۔تم ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہمارے کچھ