مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 377

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۳ء 377 الخير كله في القرآن میں یہ مثالیں آپ کو اس بات کے سمجھانے کے لئے دے رہا ہوں کہ قرآن کریم نے تم میں سے ہر ایک کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ دیکھو مجھ میں تمہارے عزت و شرف کا سامان ہے اس سے اعراض نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے کانوں میں یہ حسین آواز آئی الخير كله في القرآن ہر قسم کی بھلائی تمہیں قرآن کریم سے ملتی ہے۔میں نے مثالیں دے کر آپ کو بتایا ہے کہ یہ محض دعوی نہیں بلکہ جو قو میں بھی دنیاوی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں۔جب آپ ان کی تاریخ پر اور ان کے موجودہ کردار پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جتنا جتنا کسی نے قرآن کریم کے بنیادی اصولوں کو اپنایا ہے۔اتنا اتنا وہ دنیاوی لحاظ سے ترقی کر گیا۔تاہم قرآن کریم کے جو روحانی اصول ہیں وہ تو انہوں نے آزمائے ہی نہیں کیونکہ ان سے تو وہ لا پرواہی برت رہے ہیں ان کا تو وہ انکار کر رہے ہیں۔لیکن جس حصہ سے انہوں نے اعراض نہیں کیا اس حصہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دنیاوی لحاظ سے وہ ترقی کر گئے ہیں۔انہوں نے دیانت اور صداقت کے ذریعہ اپنے اندر ایک حسن پیدا کیا اور گویا خدا تعالیٰ کے کلام کی صداقت پر ایک گواہ بن گئے۔غرض دنیا میں کسی قوم کی کوئی ترقی ایسی نہیں جس کے متعلق میں اللہ کے فضل سے آپ کو یہ نہ بتا سکوں کہ انہوں نے فلاں قرآنی اصول کو اپنایا اور ترقی کی۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا۔انسانی معاشرہ کے دو حصے ہوتے ہیں ایک وہ جو خو بیوں سے معمور ہوتا ہے اور ایک وہ جونہایت بھیانک اور گندا یعنی برائیوں پر مشتمل ہوتا ہے یعنی قومی زندگی کا یہ پہلو ہر قسم کی برائی اور گندگی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔جو حصہ خوبیوں سے معمور ہوتا ہے، اس کی ہر خوبی قرآن کریم کے بتائے ہوئے کسی نہ کسی اصول پر مبنی ہوتی ہے۔اور ان کی ہر گندگی اور ہر بے ہودگی اور ہر برائی اور ہر بدصورتی وہ قرآن کریم کے کسی نہ کسی اصل کو چھوڑنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم کے جو احکام ہیں ان میں اوامر بھی ہیں مثلاً قرآن کریم کہتا ہے یہ کرو یہ کرو یہ کرو پھر ان میں موانع بھی ہیں۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے اس سے بچو، اس سے بچو۔تو جہاں کمزوری ہے وہاں جو کرو کا حکم تھا اس کو پس پشت ڈال دیا گیا۔اور جہاں بدصورتی اور بھیانک گند ہمیں نظر آتا ہے۔وہاں قرآن کریم نے جو کہا تھا یہ نہ کر اس سے بچو۔اس سے بچا نہیں گیا۔اور جتنی جتنی انہوں نے دنیاوی لحاظ سے ترقی کی وہ بنیادی لحاظ سے کوشش کا پھل ہے۔کیونکہ خدا نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ صرف روحانی لحاظ سے تمہارے لئے عزت و شرف کے سامان ہیں یا نہیں کہا تھا کہ قرآن کریم میں صرف روحانی بھلائیاں ہیں بلکہ فرمایا ہے کہ اس میں ہر قسم کی عزت و شرف کے سامان ہر قسم کی خیر کے سامان ہیں دینی خیر ہو یا دنیاوی۔عزت و شرف دینی ہو یاد نیوی ہو۔روحانی طور پر حاصل ہونے والا شرف ہو یا اس دنیا کے معاشرہ کا شرف ہو۔وہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے وہ دوست جو ابھی تک ہم میں شامل نہیں ہوئے وہ آج کہ سکتے ہیں کہ ہمیں قرآن کریم کی یہ باتیں کسی نے بتائی نہیں اس لئے ہم دنیا