مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 351

د دمشعل راه چہرے کل راه جلد دوم ے پر فرموده ۱۹۷۲ء 351 بڑی بے چینی تھی۔کل رات تو بہت زیادہ تکلیف رہی۔آج صبح بھی میں بہت زیادہ کمزوری محسوس کر رہا تھا۔میرا خیال تھا کہ میں اس وقت بیٹھ کر تقریر کروں گا لیکن جب میں مقام اجتماع میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے، اس نے فضل کیا۔میں نے اپنے اندر طاقت اور بڑی بشاشت محسوس کی۔جب کبھی بغیر وجہ کے میرے جیسے کمزور انسان کے اندر بشاشت پیدا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کل پرزے کھینچے ہیں اور کہا ہے کہ اپنے ر مسکراہٹیں لے کر آؤ۔پس میں تو خوش ہوں اور سمجھتا ہوں کہ حالات بے شک بدلتے رہیں ہمیں اس یقین پر قائم رہنا چاہیئے کہ یہ ہمارے فائدہ کیلئے بدل رہے ہیں۔غرض جب میں یہاں پہنچا تو میں نے اپنے اندر طاقت اور بڑی خوشی محسوس کی یہاں تک کہ میرے جسم کے روئیں روئیں میں سے خوشی پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی تھی اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صدر صاحب نے مجھے رپورٹ دی کہ پچھلے سال کے اجتماع کے آخری دن جتنی مجالس نے حصہ لیا تھا اس دفعہ پچھلے سال کی نسبت پہلے دن پچاس مجالس زیادہ شامل ہوئی ہیں۔الحمد للہ۔حالانکہ اجتماع کے ان تین دنوں میں اور بھی کئی مجالس کی شمولیت متوقع ہوتی ہے۔مگر باوجود اس کے کہ ہمارا ملک اس وقت بڑے پریشان کن حالات میں سے گزر رہا ہے، دوسرے اس مہینے کی ۲ تاریخ کو تعلیمی ادارے بھی کھل گئے تھے، ہمارے اکثر نوجوان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ، مگر ان مشکل حالات میں جن سے ہمارا ملک اس وقت دو چار ہے ( میں اس بارہ میں دو خطبے بھی دے چکا ہوں آپ ملک کے مستقبل کیلئے دعا کریں اور صدقات دیں، لوگوں کو سمجھا ئیں۔غرض آپ پر اس لحاظ سے بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ) بہر حال بڑے مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ پہلے سے زیادہ مجالس کو اجتماع میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی۔اب یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اس کا کریڈٹ مجھے یا چوہدری حمید اللہ صاحب کو نہیں جاتا۔اس لئے ہمارا دل خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد سے پر ہو جاتا ہے۔خدام میرے سامنے بیٹھے ہیں جن میں سے بعض ( میں نے کل بھی دیکھا تھا ) لاڑکانہ سے اپنی مخصوص ٹوپیوں کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔میرے خیال میں اتنی تعداد میں یا تو پہلے کبھی نہیں آئے یا کم از کم ان ٹوپیوں میں نہیں آئے کہ نمایاں ہو کر نظر آجائیں۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ جماعت کو کہیں سے کہیں لے گیا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔فرمایا:- (بحوالہ روزنامه الفضل ۲۸ جون ۱۹۷۳ء) تعلیمی اداروں کے قومی تحویل میں چلے جانے پر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اس پر غور کرو۔چنانچہ اس سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ حقیقی تعلیم کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتی بلکہ تعلیمی اداروں کے کام تو بالکل ابتدائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔اس لئے اگر انسان وہیں تک ٹھہر جائے تو گویاوہ ایک نہایت ہی نا معقول اور مہلک مقام پر ٹھہر گیا۔اس کے متعلق میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اور بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کے مطابق علم کن کن مراحل سے گزر کر کامل ہوتا اور ایک حقیقی شکل اختیار کرتا