مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 319
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 319 پانی گیس بن کر ریل گاڑی چلائے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا خود بخود یہ خدمت نہیں کرے گا۔انسان کوشش کرے گا انسان محنت کرے گا تب وہ انجن بنائے گا۔جب وہ میرے قانون کہ مطابق یہ چیز بنالے گا تو پھر میرا اسے یہ حکم ہے کہ وہ انسان کی خدمت میں لگ جائے یہ نہ ہو کہ جو پانی ہے جب اسے انجن میں گرم کیا جائے۔تو وہ ریل کے کئی کئی من وزنی پہیوں کو دھکا دینے کی بجائے واہمہ بن کر ہوا میں اُڑ جائے۔فرمایا یہ نہیں ہوگا۔جب انسان اپنی کوشش کرے گا۔تمہیں مسخر کرنے اور زنجیر ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا تو اسوقت تم نے اس کی خدمت پر لگ جانا ہے۔یہی وہ خدمت کی قسم ہے جسے میں دوسری قسم کی خدمت سے تعبیر کرتا ہوں۔پس بنیادی طور پر خدمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک یہ کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں خدا کی مخلوق انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ہم چاہیں نہ چاہیں صبح ہوتی ہے اور سورج ہمارے اوپر طلوع ہوتا ہے۔ہم چاہیں نہ چاہیں رات آتی ہے اور ہمارے لئے سکون کا سامان اور آرام اور ستانے کا سامان اور اپنی طاقتوں کو بحال کرنے یا ان میں دوبارہ طاقت پیدا کرنے کا سامان پیدا کرتی ہے۔ہم چاہیں نہ چاہیں ہمارے لئے کائنات کی یہ مخلوق خدمت میں لگی ہوئی ہے۔لیکن یہ نہیں ہوگا کہ ہم چاہیں نہ چاہیں انجن چلنے لگ جائے۔ہم چاہیں نہ چاہیں زمین سے پڑول نکل آئے اور ہماری موٹروں میں استعمال ہونے لگے۔ہم چاہیں نہ چاہیں پٹرول خود ہی صاف ہو جائے اور اس قابل ہو جائے کہ ہمارے ہوائی جہاز اڑا لے۔ہم چاہیں نہ چاہیں ہوائی جہاز کی اتنی رفتار ہو جائے کہ وہ کشش ثقل کہ مقابلے میں پرواز کر سکے۔غرض اسی قسم کہ اور ہزار با اصول ہیں جو ایک چیز کو بیلنس یعنی اس میں توازن پیدا کرنے والے ہیں۔غرض ایک خدمت وہ ہے جس پر یہ کائنات مامور ہے یعنی جسے انسانی خدمت پر مامور کیا گیا ہے۔انسان چاہے نہ چاہے یہ مخلوق اس کی خدمت پر لگی ہوئی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیں جیسے ابو جہل نے آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیا تھا تب بھی خدا تعالیٰ نے مخلوق سے یہی کہا کہ میں نے تجھے بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس واسطے اگر انسانی نوع یا اس کا کوئی حصہ یا کوئی فرد بشر میرا باغی ہو جائے تب بھی تم نے اس کی خدمت کرتے رہنا ہے۔کیونکہ تم خدمت پر مامور ہو صرف میرے مقرب بندوں کی خدمت پر مامور نہیں ہو بلکہ میرے سب بندوں کی خدمت پر مامور ہو خواہ ان میں سے کچھ باغی ہی کیوں نہ ہو جائیں۔چنانچہ سورج کفار پر بھی اسی طرح طلوع ہوتا تھا جس طرح مسلمانوں پر طلوع ہوتا تھا۔اونٹ کفار کے تجارتی قافلے اسی طرح لے کر جاتے تھے جس طرح وہ مسلمانوں کے کام آتے تھے۔چنانچہ ابوسفیان اونٹوں کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر گیا تھا اور اسے اس نیت کے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ اس کی جو آمد ہوگی وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال کی جائے گی۔اونٹوں سے خدا نے کہا ٹھیک ہے ان کی نیتیں خراب ہیں لیکن تمہیں حکم یہ ہے کہ تم انسانی شرف کا خیال رکھو۔کفار مکہ خراب ہو گئے ہیں لیکن ان کی نوع خراب نہیں ہے۔ان میں سے محمد ی ہے جیسا عظیم وجود پیدا ہوا ہے۔چنانچہ اونٹوں کے قافلے گئے۔اونٹوں نے