مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 315

فرموده ۱۹۷۲ء 315 مشعل راه جلد دوم تسخیر کہتے ہیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں نے ہر چیز جو پیدا کی ہے وہ تمہارے لئے مسخر کردی ہے یعنی تمہاری خدمت پر لگادی ہے۔جب ہم اس عالمین اور اس خادموں کی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں اور ہم یہ محاورہ بول سکتے ہیں یعنی ہمیں سمجھ آ گئی کہ جو چیز پیدا کی گئی ہے۔وہ انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے ) تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پھر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یعنی ان خادموں کی خدمت دو قسم کی ہے۔ایک وہ خدمت جسے وہ بغیر ہمارے مطالبہ کے خود بخود کر رہے ہیں۔مثلاً انسانی پیدائش سے پہلے سورج چاند اور دوسرے ستاروں نے اور تمام دوسری موثرات (اثر کرنے والی مخلوقات) نے انسان ( کہ جس نے اشرف المخلوقات بننا تھا۔اس کے لئے زمین کو تیار کیا۔یہ عمل لاکھوں کروڑوں سال میں انجام پذیر ہوا۔یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اس یو نیورس(Universe) کو پیدا کر کے یہ فرمایا کہ میں نے اشرف المخلوقات کو زمین پر بھی آباد کرنا ہے۔زمین پر بھی آباد کرنا میں اس لئے کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دوسرے گروں میں بھی انسانی آبادی ہے۔انسانی سے مراد ہے شعور رکھنے والی اور جیسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو وہ نیکی کرے اور چاہے تو گناہ کرے ضروری نہیں کہ شکلیں ملتی ہوں۔بالکل ہمارے جیسی ہی ہوں۔واللہ اعلم۔ممکن ہے بالکل ہمارے جیسی ہوں ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی اور شکل دی ہو لیکن روح ملتی ہے یعنی روح زندگی پانے والی اور اشرف المخلوقات ہے اور سارے عالمین ان کی خدمت میں بھی لگے ہوئے ہیں۔بہر حال ان کا تو ہمیں علم نہیں۔جس نسل کو علم ہوگا۔وہ خود ہی ان سے گفتگو کرلیں گے غرض اس سارے عالمین کو کہا کہ میں نے ایک اشرف المخلوقات نوع پیدا کرنی ہے۔تم ایک زمین تیار کرو جو اس اشرف المخلوقات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا نا معلوم زمانے تک بے شمار سال بھی کہہ سکتے ہیں۔غیر محدودزمانہ بھی کہہ سکتے ہیں) اپنے محدود دائرہ میں وہ غیر محدود بن جاتا ہے۔جب نظر اور تمثیل سے جن کی وسعتیں پرے چلی جائیں سورج بھی اس کام میں لگارہا۔چاند بھی اس کام میں لگا رہا۔سورج نے زمین سے کہا (اشرف المخلوقات کو قبول کرنے کے لئے تیار کرنا تھا نا کہ مجھ سے اتنے فاصلے پر رہنا میرے قریب نہ آنا کیونکہ تو اگر میرے قریب آگئی تو اتنی گرمی پیدا ہوگی کہ تم اشرف المخلوقات کو قبول نہیں کر سکو گی۔وہاں وہ اپنی زندگی نہیں گزار سکیں گے۔(اب یہ سائنس کی بات آپ کو بتارہا ہوں )۔اور کہا اس سے دور بھی نہ چلی جانا۔پھر اتنی ٹھنڈ پیدا ہو جائے گی کہ اشرف المخلوقات یہاں رہ نہیں سکے گا۔پھر زمین کے ذروں کو کہا کہ میں اپنے پیغامبر اپنے خزانے دے کر تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔زمین کے ذروں میں غیر محدود طاقتیں خدا کے حکم سے موجود ہیں۔کیونکہ ہم خد تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ نے اس کو یہ حکم دیا کہ یہ تم اپنے اندر سمیٹ لو۔اب وہ غیر محدود طاقتیں ابتدائے آفرینش سے انسان کے کام پر تلی ہوئی ہیں۔گندم کو لے لیں۔کہتے ہیں۔آدم علیہ السلام کے زمانے سے گندم پیدا ہونی شروع ہوئی اور زمین آج تک گندم اگائی جارہی ہے۔گندم کیا چیز ہے۔گندم زمین سے اجزاء لے کر ہمارے کھانے کے لئے بہترین غذاؤں