مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 279
279 فرموده ۱۹۷۱ء دو مشعل راه جلد دوم دد اسلامی اصول کی فلاسفی میں خاص طور پر اس بات کو ہمارے سامنے واضح کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب آنحضرت علی کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کے اخلاق کیا تھے؟ اور چونکہ آپ کی زندگی صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک ایک پیہم عمل ہے۔اس لئے پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ مثلاً آنحضرت عیہ سوتے کس طرح تھے کس وقت جاگتے اور عبادتیں کس طرح کیا کرتے تھے آپ کے بندوں کے ساتھ تعلقات کیسے تھے مسلمانوں پر شفقت کیسی تھی، غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کیسا تھا؟ یہی زندگی ہے اور اسی پرش کے متعلق حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ کیسی تھی؟ آپ نے جواب دیا: كان خُلُقُه القرآن“ خدا تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا آپ نے وہ کر کے دکھا دیا۔لیکن جہاں تک امت محمدیہ کا تعلق ہے بات ختم نہیں ہوتی بلکہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ حکم اور محمد رسول ﷺ کا جو عمل اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہے۔تم جن کا یہ دعوی ہے کہ ہم محمدمصطفی ﷺ سے پیار کرتے ہیں اور آپ کے فدائی اور جاں نثار ہیں تمہارا فرض ہے کہ جس طرح محمد ﷺ نے کیا اسی طرح تم بھی کرو۔پس ہر نسل کے اندر یہ سات صفات پیدا ہونی چاہئیں اور اسے ان کا عادی بنانا چاہئیے تا کہ وہ بھی اس قسم کے اعمال بجالائیں۔ا پہلی صفت مفوضہ کام کے لئے مستعد اور تیار يا يها المدثر میں یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ ہر کام کے لئے تیاری کرنی پڑتی ہے۔اسی واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دس سال تک بچے کو ذہنی طور پر نماز کے لئے تیار کر واور پھر دس سال کے بعد اس کی عملی طور پر نماز کے لئے تربیت کرو کیونکہ یہ تربیت کا زمانہ ہے، ابھی اس کو اس عمر میں پورا احساس اور بصیرت نہیں ہوتی ، اس واسطے اس کی تربیت کرنی پڑتی ہے اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ نماز کا ناغہ نہ کرے، ستی نہ کرے، مسجد میں جائے وغیرہ وغیرہ۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ ذہنی اور روحانی طور پر بالغ ہو جاتا ہے اور جب وہ اپنی بلوغت کو عمر کو پہنچتا ہے تو پھر اس کو نماز میں لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔پھر وہ دنیا کے سارے دھندے چھوڑ کر نماز کے اوقات میں مسجد کی طرف بھاگتا ہے۔لیکن بہر حال اس کے لئے بچے کی شروع میں تربیت کرنی پڑتی ہے اور بتانا پڑتا ہے کہ نماز بڑی سرور اور لذت پیدا کرنے والی چیز ہے اپنی ذات میں بھی ، اور اپنے نتائج میں بھی یعنی نماز دعا کو کہتے ہیں اور جب انسان اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا ہوتا ہے تو اسے بڑا سرور آتا ہے۔اور جب اللہ تعالی نماز کے نتیجہ میں دعا کو قبول کر کے اپنی قدرتوں کے نشان دکھا دے تو اس سے انسان کے دل میں اور بھی زیادہ سرور پیدا ہوتا ہے۔پس نماز تو ہے ہی اپنی ذات اور نتائج میں لذت اور سرور پیدا کرنے والی چیز۔مگر ایک دس سال کے بچے کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لئے اس کی تربیت کرنی پڑتی ہے۔