مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 278

فرموده ۱۹۷۱ء 278 دد مشعل راه مل راه جلد دوم اس کے قابل بھی نہیں تھا۔قرآن مجید کی پر حکمت تعلیم پر عمل پیرا ہونے کا طریق مشتمل قرآن کریم ایک کامل شریعت کی شکل میں انسان کی طرف بھیجی گئی ہے یعنی قرآن کریم ایسے احکام پرش ہے جن پر دینی اور دنیوی ترقی کے لئے عمل کرنا ضروری ہے اس کتاب میں حکیمانہ فرائض ہیں کہ جو محض چھٹی کے طور پر عائد نہیں کئے گئے۔بلکہ انسان جب غور کرتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اس میں ہمارے کام کی ایسی باتیں ہیں۔جنہیں ہمارا دماغ سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ باتیں سکھادی ہیں اور اس شریعت پر عمل کر الله کے ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہے۔نقصان کا کوئی پہلو سوچنے والے اور سمجھنے والے دل کے سامنے نہیں آتا۔قران کریم کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو ظاہر کرنے کے لئے حکم آنحضرت ﷺ کو ہوتا ہے اور اس طرح سارے احکام کے پہلے اور حقیقی مخاطب آنحضرت عے ہیں۔جیسا کہ ان آیات کے شروع میں جن کی ابھی میں نے تلاوت کی ہے یا یھا المدثر کا پہلا مخاطب آنحضرت عیﷺ کی ذات ہے لیکن چونکہ نبی متبوع ( اور آنحضرت ﷺ کی تو شان ہی سب نبیوں میں بلند اور ارفع ہے ) اُسوہ ہوتا ہے اپنی امت کے لئے اس لئے وہ اول المسلمین ہوتا ہے یعنی اللہ تعالی کی طرف سے اسے جو حکم ملتا ہے وہ اس پر سب سے پہلے اور سب سے اچھے طریق پر اور احسن رنگ میں عمل کرنے والا ہوتا ہے۔پھر وہ نبی متبوع اپنے ماننے والوں سے کہتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی فراست اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق میں نے اس پر اس طرح عمل کیا ہے۔تم بھی میرے پیچھے آؤ اور جس طرح میں نے عمل کیا ہے ویسا ہی تم بھی عمل کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سات صفات کا ذکر ان آیات قرآن میں جن کی میں نے ابھی سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کی ہے۔آنحضرت ﷺ کو سات حکم دیئے گئے ہیں یا ایک اور رنگ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان آیات میں حضرت نبی کریم ﷺ کی سات صفات بیان کی گئی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ جاننے والے جانتے ہیں اور بعد میں معلوم کرنے والوں نے معلوم کیا۔حضرت نبی کریم ﷺ کی ساری زندگی اخلاق قرآنیہ پر عمل کرنا تھی۔جیسا کی حدیثوں میں آیا ہے: كان خلقه القرآن (مسلم) انسانی قوتوں اور استعدادوں کے صحیح مظاہرہ Expression(ایکسپریشن) کو خلق کہتے ہیں یعنی انسانی قوتوں کا صحیح طور پر اور موقع اور محل کے مطابق ظہور اور اللہ تعالیٰ کی ان عطا کردہ قوتوں کا افراط و تفریط سے بچاتے ہوئے صحیح استعمال کا نام خلق ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف کتب میں عام طور پر اور