مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 25
25 فرموده ۱۹۶۶ء دو مشعل راه جلد دوم تا خدام کوعلم ہو جائے کہ اس سے پرے نہیں جانا یا ادھر سے اندر نہیں آیا بلکہ مقررہ راستہ پر سے آنا ہے۔ان رسیوں کے باندھنے کیلئے بھی جامعہ احمدیہ کے بیسیوں طالب علم کئی ہفتے وقار عمل کرتے تھے تب یہ چھوٹے چھوٹے ڈنڈے گاڑے جاسکے تھے کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ سوراخ کس طرح کئے جاتے ہیں تاز مین میں ڈنڈے گاڑے جاسکیں۔ہم پندرہ میں چوہے رہنے اکٹھے کرتے تھے اور پھر ایک آدمی سوراخ ہی کھود رہا ہوتا تھا۔ایک ایک لاٹھی کیلئے سوراخ کرنے پر پندرہ بیس منٹ وقت لگ جاتا تھا اور پھر یہ ایک ڈنڈا نہیں ہوتا تھا بلکہ سینکڑوں ڈنڈے ہوتے تھے۔میرے خیال میں آپ کے اس اجتماع کا جو پیرا میٹر ہے اس میں سات آٹھ سو ڈنڈے گاڑے ہوئے ہوں گے۔پھر یہاں زمین نرم ہے۔وہاں کچھ سخت تھی۔اس طرح ہمیں بڑی دقت پیش آتی تھی۔پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ یہ کیا لطیفہ بنایا ہوا ہے۔ہم ایک ایک سوراخ پر پندرہ بیس منٹ لگا دیتے ہیں میرے ذہن میں سوراخ نکالنے کا ایک بڑا آسان طریق آیا۔میں نے آٹھ کیلیاں جو خیمہ لگانے والی ہوتی ہیں بنوالیں اور کچھ ٹھوکنے والے مگدر بھی بنوالئے۔پھر ایک آدمی اس مگدر کے ساتھ ایک کیلی پر ایک ہی ضرب لگا تا تھا تو ضرورت کے مطابق سوراخ ہو جاتا تھا پھر وہ وہاں سے کیلی نکال لیتا اور آگے لگا لیتا۔اس طرح پندہ دن کا کام چند گھنٹوں میں ہونے لگ گیا۔اب پتہ نہیں آپ لوگ کیا طریق اختیار کر رہے ہیں۔جوں جوں انسان کو تجربہ حاصل ہوتا ہے وہ سوچتا ہے وقت اس کے سامنے آجاتی ہے۔اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وقت ضائع نہیں ہونا چاہیئے۔ہم اس وقت کو اس سے اچھے مصرف میں لگا سکتے ہیں۔اگر کوئی صورت نکل آئے تو ہم یہاں سے کچھ وقت بچا لیں۔پھر اللہ تعالیٰ اسے نئے نئے طریق سوجھاتا چلا جاتا ہے۔قادیان میں اجتماع کی ابتدائی کیفیت اس طرح شروع میں جب اجتماع ہوا تو تمہیں پتہ ہے کہ اس اجتماع کے موقع پر خدام کو جو کھانا دیا گیا تھا وہ کہاں پکا یا گیا تھا۔وہ کھانا قادیان میں ہر احمدی گھرانے میں پکایا گیا تھا۔ہمیں یہ خیال آیا کہ اگر ہر ایک خادم کو گھر جا کر کھانا کھانے کی اجازت دے دی گئی تو بہت سارا وقت ضائع ہو جائے گا۔ہمیں اس وقت کو بچانا چاہیئے اور ہمیں مقام اجتماع میں ہی رہنا چاہیئے۔تب ہم نے قادیان میں اعلان کر دیا کہ ہر گھر جس کے ایک یا دو خدام اجتماع میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ہیں۔وہ دو افراد خاندان کی بجائے چار افراد خاندان کا کھانا بھیجے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ہزاروں گھروں میں سے ہزاروں کھانے برتنوں میں کیسے لائے جائیں اس کیلئے یہ طریق اختیار کیا گیا کہ قادیان میں اعلان کر دیا گیا کہ مثلاً جمعہ کی شام کو ہر گھر مونگ کی دال پکائے گا۔چنانچہ اطفال والنٹیئر گھر گھر جاتے تھے اور گھر والے چار کس مونگ کی دال بالٹی میں ڈال دیتے تھے۔اب دیکھو ہر گھر میں مونگ کی دال پکی ہوئی ہوتی تھی اور پھر مختلف گھروں میں اس پکی ہوئی دال کی مختلف شکلیں ہوتی تھی۔کہیں گاڑھی دال پکی ہوئی کہیں ذرا پتیلی کہیں کچھی ہوتی اور کہیں پکی ہوئی۔یہ سارا ملغوبہ بن کے وہاں آجا تا تھا اور اس کے ساتھ