مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 24
فرموده ۱۹۶۶ء 24 د «مشعل راه جلد دوم بین نگاہ میں کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔وہ کام خدام الاحمدیہ کا ایک حلقہ کر رہا ہو تو بھی اور سارے خدام الاحمد بیل کر رہے ہوں تو بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عمل صالح نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا ایک جزو یہ بتایا ہے کہ خلیفہ وقت کی اطاعت کی جائے اور فرمایا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا کوئی سلسلہ جاری ہوتا ہے جیسے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ عالمگیر رحمت کی ایک تحریک اللہ تعالیٰ نے جاری کی کہ امت محمدیہ کیلئے قرآن کریم کی شریعت آپ کے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ یہ شریعت ہے، یہ قوانین ہیں، یہ اصول ہیں ان کے مطابق تم تمام دنیا میں رحمت کی نہریں جاری کرو۔جو شخص قرآن کریم کے مطابق نہیں بلکہ اس کے خلاف کام کرے گا اس کا وہ کام عمل صالح نہیں ہوگا۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بشارت دی کہ اگر تم ایمان کے اوپر قائم رہے اور اگر تم بحیثیت جماعت اس مقام کو جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے اور نوازتا رہے گا تو پھر جو خلیفہ مقرر ہو اس کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنا اس کو چھوڑ کر دوسری طرف نہ جانا کہ تمہارا ایسا کرنا فاسقانہ اعمال میں شمار ہوگا۔اعمال صالحہ میں شمار نہیں ہوگا۔غرض خدام الاحمدیہ کا لائحہ عمل وہ ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مجلس خدام الاحمدیہ کو جاری فرمایا تو ابتداء میں مختلف وقتوں میں خدام الاحمدیہ کے سامنے رکھا یا وہ لائحہ عمل ہے جو میں اب تمہارے لئے بناؤں۔تنظیم بڑی چھوٹی سی ابتداء سے شروع ہوئی تھی اور آج یہ بڑی ہی خوش کن اور بڑی اچھی صورت میں اور بڑی وسعتوں میں پھیلی ہمیں نظر آتی ہے اور اب جو بھی خلیفہ وقت ہوگا وہ حالات کے مطابق ہدایتیں دیتا چلا جائے گا۔وہ بعض پہلی ہدایتوں میں ترمیم بھی کر سکتا ہے اور بعض تبدیلیاں بھی کر سکتا ہے کیونکہ مناسب حال عمل ہی قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ہی عمل صالح بنتا ہے۔وقار عمل کی اہمیت ہمارے سپرد ایک کام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ کیا تھا کہ ہم ایک خاص طریق پر وقار عمل منائیں لیکن اب ہم نے اس طریق پر وقار عمل منانا چھوڑ دیا ہے یا ہم ایک حد تک اس سے غافل ہو گئے ہیں۔کچھ مجالس تو ایک حد تک اس قسم کے وقار عمل مناتی ہیں لیکن بعض مجالس نے ان ہدایتوں کی طرف سے عدم توجہی برتنی شروع کر دی ہے۔مثلاً ہر دو ماہ کے بعد سارے قادیان کا اکٹھا ایک وقار عمل منایا جاتا تھا۔جس میں خود حضور کے منشاء کے مطابق غیر خدام کو بھی دعوت عمل دی جاتی تھی ان سے درخواست کی جاتی تھی کہ آپ بھی جو ہمارے بزرگ ہیں آئیں اور اس وقار عمل میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔چنانچہ قادیان میں ہر دوماہ میں ایک بار وقار عمل منایا جا تاربا ہے جس میں سارا قادیان شامل ہوتا تھا اور شروع میں ہمیں بڑی محنت کرنی پڑی ہے کیونکہ ابتدائی کام بہت مشکل ہوتا ہے۔بہت سی چیزوں کا تجربہ ہی نہیں ہوتا اب آپ کا جو اجتماع ہے اس کے پیرا میٹر کے اوپر جو پتلی پتلی سے رسیاں باندھی گئی ہیں۔یہ رسیاں چوروں کو روکنے کیلئے تو نہیں ہیں۔بلکہ یہ صرف ایک نشان کے طور پر ہیں۔