مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 275

275 فرمودها ۱۹۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد یعنی انٹر میڈیٹ کالج ہے۔سیرالیون کے دارالخلافہ فری ٹاون سے ۱۷ میل دور ایک جگہ بو ہے یہاں تک میں گیا تھا اس سے آگے میں نہیں گیا۔بو سے ستر میل شمال مغرب میں ایک طرف جو رو“ ہے اور دوسری طرف قریباً ستر میل ” بو آ جے بو ہے۔ہمارے پہلے ڈاکٹر نے اپنا سنٹر جو رو میں کھولا ہے۔ہمیں ایک اور مشکل یہ پڑتی ہے کہ ہم سادہ لوگ ہیں شعر ہمیں پسند نہیں ہے۔دنیا کے اظہار بشاشت کے یہ جو طریق ہیں یہ بھی ہمیں اچھے نہیں لگتے۔چنانچہ جب ڈاکٹر پہنچا تو وہاں کے پیراماؤنٹ چیف کئی سو آدمیوں کے ساتھ ناچتے ہوئے پہنچ گئے۔یہ ان کا اپنا طریق ہے۔ویسے وہاں کے پیرا ماونٹ چیف مسلمان ہیں لیکن ان کے قریب بہت ساری گندی رسوم آئی ہوئی ہیں جن سے ہماری جنگ ہے۔ہم نے انہیں کہا بھی کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ہمیں یہ یہ پسند نہیں ہے۔کہنے لگے آج تو ہماری خوشی کا دن ہے اس لئے ہمیں ناچ لینے دو۔آج وہاں سے تار آئی ہے کہ ہیلتھ سنٹر کے افتتاح پر پانچ ہزار آدمی وہاں جمع ہوا جس میں درجنوں چیف پیراماؤنٹ چیف اور پادری ( پادریوں کو بھی وہاں آنا پڑتا ہے ) اور پروفیسر اور سکالر وغیرہ شامل تھے۔انہوں نے وہاں اتنی خوشی منائی ہے کہ کوئی حد نہیں۔جہاں بھی ہمارا ڈاکٹر جاتا ہے اللہ تعالیٰ وہاں شفاء بھی دیتا ہے۔ایک تو ہماری کوشش ہے جو ہر آدمی کرتا ہے ایک عیسائی بھی کرتا ہے ان کے پاس دولت زیادہ ہے اور ان کی ظاہری کوشش ہم سے بڑھی ہوئی ہے۔ہمارے پاس مال کم ہے اور ہماری ظاہری کوشش عیسائیوں سے کم ہے۔پس ایک تو یہ ظاہر کی چیز یعنی چھلکا ہے اور ایک اندر کی بات ہے کہ پادری کا ذہن جس کو لا علاج قرار دے دے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک احمدی کے ہاتھ میں شفاء ڈال دے۔یہ جو باطنی چیز ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ نے اس وقت رحم کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھیجے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس باطنی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا پیار اللہ تعالیٰ اس جماعت سے پیار کرتا ہے اور اس پیار کے جلوے بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی دکھاتا ہے۔جب ہم سوچتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اتنا عظیم پیار ہے کہ اگر ساری زندگی بھی ایک پیار کا بدلا دیتے ہوئے گزار دی جائے تو بدلہ ادا نہیں ہوتا۔انسان بدلہ تو دے ہی نہیں سکتا اسے شکر کا حکم ہے اور اگر ہم شکر کے طور پر الحمد للہ پر ہتے رہیں تو ایک پیار کے مقابلے میں بھی ہماری وہ حمد اور ہمارا وہ شکر کافی نہیں بلکہ وہ ایک پیار اس سے زیادہ ہے۔اس کے مقابلہ میں ہمارا حال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایک ایک دن میں بے شمار محبت اور پیار اور اپنی قدرتوں کے جلوے ہمیں دکھا رہا ہے۔یہ احساس ہے جو آپ کے دل میں پیدا ہونا چاہئے۔آپ ادھر ادھر نہ دیکھیں کیونکہ آپ کا رستہ بالکل سیدھا ہے اور آپ کا یہ سیدھا رستہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانے والا ہے۔آپ پہلے جلووں کی طاقت اور ان