مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 273
273 فرموده ۱۹۷۱ء ود مشعل راه جلد دوم دد لئے اور روس تک وہ سارے علاقے جہاں یہ آباد ہوئے تھے ( روس میں بھی چنگیز کی اولاد گئی تھی اور وہاں کی فاتح ہوئی تھی۔یہ سارے علاقے مسلمان ہوئے اور وہاں کے سرداروں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔اسلام کے خلاف ان کی جو ایک حرکت تھی پہلے اسے روکا پھر پیچھے ہٹایا اور پھر ان کے دل جیتے چلے گئے۔یہ بڑا لمبا اور دلچسپ مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شان کے نظارے اور اسلام کے ساتھ اس کے پیار کے جلوے ہمیں اس تاریخ میں نظر آتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ماضی قریب میں ایک زمانہ اس زمانہ سے ملتا جلتا ہے جو چنگیز اور اس کی اولاد اور اس کے قبیلوں کی یلغار کے نتیجے میں اسلام کے تنزل کی شکل میں ظاہر ہوا اگر چہ شکل بدلی ہوئی ہے۔یہ زمانہ اس سے کچھ ملتا جلتا تو تھا لیکن ظاہر کچھ بڑے پیمانے پر ہوا۔پیشینگوئیوں نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ وہ زمانہ ہزار سال کے بعد کی دو تین صدیاں ہے ( چودہویں صدی تو اب ہماری شروع ہو چکی ہے ) اور وہ دو تین صدیاں بڑی تنزل کی اور پشیمانی اور پریشانی کی صدیاں ہیں لیکن گھبرانے کی بات نہیں کیونکہ یہ تنزل عارضی ہے اور پھر اسلام غالب آئے گا۔یہ زمانہ جس میں اسلام نے غالب آتا ہے اس میں آپ داخل ہو چکے ہیں اور آپ کو اس کا احساس ہونا چاہئے صرف یہ احساس اگر آپ کے دل یعنی ہر احمدی بچے اور نو جوان خادم کے دل میں پیدا ہو جائے کہ ہم اس زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں کہ جس میں اسلام کے مقدر میں عظیم فتوحات اور عظیم غلبہ ہے تو یہ احساس آپ کو ایسی تربیت پر مجبور کرےگا کہ اللہتعالی کی نگاہ میں صیح معنی میں اسلام کے سپاہی بن جائیں اور یہی چیز ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔دنیا تو اس وقت پاگل ہوئی ہوئی ہے۔میں نے بڑا غور کیا ہے اس وقت دنیا میں عقلمند صرف احمدی ہے۔دنیا اس دنیا کے پیچھے لگی ہوئی ہے جو عارضی اور بے اطمینانیوں سے بھری ہوئی اور پریشانیوں سے معمور دنیا ہے جہاں ہلاکتیں ہی ہلاکتیں نظر آ رہی ہیں۔یہ وہ دنیا ہے جہاں نشوں کے ذریعہ اپنے آپ کو بھلانا چاہتے ہیں اور بھلا نہیں سکتے ہر دل میں بے اطمینانی ہے۔ہر روسی کے دل میں بھی بے اطمینانی ہے کہ ہم نے کیا کرنا چاہا تھا اور کیا ہورہا ہے؟ ہم اپنے مقصد کو نہیں پا سکے۔اگر انسان کا مقصود یہ ہو کہ اس دنیا میں بھی اس کا دل مطمئن رہے اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہو تو سوائے اسلام کے کہیں اور یہ بشاشت اور اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا۔انسان پیار تو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے جو حقیقی پیار ہے اور اسی پیار کے نتیجہ میں اطمینان اور بشاشت پیدا ہوتی ہے۔ورنہ جس قسم کی یلغار اس وقت اسلام کے خلاف ہو رہی ہے اس سے تو بظاہر اس شخص کے دل میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جو کہلا تا تو مسلمان ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق نہیں رکھتا۔کئی لوگ مجھ سے بھی اور دوسرے احمدیوں سے بھی پوچھ لیتے ہیں کہ آپ لوگ جو ہر وقت بولتے رہتے ہیں