مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 237

237 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم فرشتوں نے اترنا ہوتا تو جنت فرشتوں کے لئے بنتی۔میرے تمہارے جیسے انسانوں کے لئے کیوں بنائی جاتی۔تو جنت تو انسان کے لئے بنائی گئی ہے اور جنت میں داخل ہونے کے لئے جو شرائط ہیں ان کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سب کچھ پیش کر دیا۔اور اللہ کے حضور سب کچھ پیش کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔ایک یہ ہے کہ اس کے بندوں کی اصلاح کی جائے پیار کے ساتھ ان کے دلوں کو جیتا جائے۔یہ ساری ویسٹرن طاقتیں جو اس وقت Civilized کہلاتی ہیں۔ان کے دل میں انسان کا پیار نہیں اگر ان کے دل میں انسان کے لئے پیار ہوتا تو وہ ایچ بم (Hydrogen Bomb) اور اے بم (Atom Bomb) نہ بناتے۔انہوں نے ہلاکت کے سامان بنادئیے۔صرف ایک بم لاکھوں انسانوں کو ختم کر سکتا ہے۔کروڑوں آدمی اس سے نقصان اٹھا سکتے ہیں مگرکسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ابھی اسی سفر میں Lufthansa میں دو امریکن بیٹھے ہوئے تھے۔بڑے بے تکلف بوڑھے سے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے اور تصویریں لے رہے تھے۔میں نے ان کو یہی کہا کہ تمہارے دل میں انسانیت کے لئے پیار ہے ہی نہیں۔تم نے انسان کو ہلاک کرنے کے لئے سامان بنا دئیے مگر اس کی حفاظت کے لئے اس کے مقابلہ میں اتنی بڑی تدبیر نہیں کی۔کوئی کہہ سکتا ہے کچھ تدبیر کا سوال ہی نہیں۔سوال یہ ہے کہ جتنی بڑی تدبیر انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کی اتنی بڑی تدبیر انسان کی حفاظت کے لئے نہیں کی۔اور میں نے کہا یہ عجیب ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے نفرت کرتا ہے ایک قوم دوسری قوم سے اور ایک ملک دوسرے ملک سے نفرت کرتا ہے۔وہ پڑھے لکھے لوگ سمجھ گئے کہنے لگے اب تو ہمارا روس کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے حالانکہ میں نے روس کا نام بھی نہیں لیا تھا۔میں نے کہا out of fear not of love ڈر کے مارے تم نے سمجھوتہ کر لیا اس میں کیا خوبی ہے۔وہ کھسیانے سے ہو گئے اور کہنے لگے بہر حال۔یہ ایک قدم آگے ہے میں نے کہا ٹھیک ہے دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ تمہیں صحیح قدم آگے اٹھانے کی توفیق دے۔تو دنیا نے بظاہر بڑی ترقی کی لیکن دنیا نے دنیاوی ترقیات میں جو قدم بھی آگے بڑھایا اس نے ثابت کیا کہ ان اقوام کے دل میں انسانیت کی محبت یا پیار نہیں ہے۔آج دنیا کو بچانے کے لئے صرف ایک جماعت موجود ہے اور وہ جماعت احمدیہ ہے۔جماعت احمدیہ سے باہر ہمیں کوئی ایسی جماعت نظر نہیں آ رہی جس کے دل میں انسان کا پیار ہو اور یہ بڑی اہم ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے۔نوجوان طبقے کو یہ مجھنا چاہیئے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔اب میں دعا کر دیتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ میری آپ کے لئے سب سے بڑی دعا یہ ہے کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے جو خواہش پیدا کی ہے آپ ایسے بن جائیں خدا کرے آپ ویسے بن جائیں۔( بحوالہ ماہنامہ خالد اکتوبر ۱۹۷۰ )