مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 236
فرموده ۱۹۷ء 236 د : مشعل راه جلد دوم خصوصاً احمدی نوجوانوں پر۔کیونکہ ہماری زندگیوں کا یہ آخری دور اور آپ کی زندگیوں کا یہ پہلا دور Over lap کیا ہوا ہے۔یہ بڑا نازک دور ہے اس وقت یا ہم دنیا کے دل جیتنے میں کامیاب ہوں گے یا دنیا کو انتہائی خطرناک حالات کی طرف دھکیلنے کا ہم موجب ہونگے۔انسانیت کے لئے اب دور استوں میں سے ایک راستہ ہے یا تو وہ مکمل تباہ ہو جائے گی یا پھر اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرلے گی۔ہمارا دل تو نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کا قہران پر نازل ہو دل تو یہی کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔کسی نے مجھ سے اسرائیل کے متعلق سوال کیا۔ویسے تو میں بیان نہیں دیا کرتا مگر قرآن کریم نے ہمیں ایک چیز بتائی ہے۔قرآن نے کہا ہے کہ آخری زمانہ میں یہود کو اس علاقہ میں حکومت حاصل ہوگی۔پھر اس کے بعد ان سے حکومت چھین لی جائے گی۔اور قیامت تک ان کو غلبہ نصیب نہیں ہوگا۔یہ دو طرح ہو سکتا ہے۔ایک اس طرح کہ وہ مٹادیئے جائیں اور ایک اس طرح کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔تو ہمارے دلوں میں ان کے خلاف کوئی دشمنی نہیں ہے۔اس لئے ہماری تو دعا ہر وقت یہ رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق دے۔آج اگر اسرائیل مسلمان ہو جائے تو سارے جھگڑے ساری لڑائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔سو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ مسلمان ہو جائیں ہلاک نہ ہوں۔لیکن ہوگا یہ ضرور کہ یہودی بحیثیت یہودی وہاں نہیں رہ سکے گا۔بحیثیت مسلمان تو ہر جگہ رہ سکتا ہے۔یہ قرآن مجید کی پیشگوئی ہے۔ہو ہی نہیں سکتا کہ مل جائے۔پیشگوئی یہ ہے کہ یہودیوں کو ایک موقع دیا جائے گا اس علاقے میں حکومت کرنے کا۔پھر اس کے بعد اسلام غالب آئیگا اور قیامت تک غالب ہی رہے گا اور پھر یہودی اس چھوٹے سے خطے میں بھی اسلام پر غالب نہیں آسکیں گے۔سو آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔ہمیں انسان سے دشمنی کرنے کا سبق نہیں دیا گیا ہمیں انسان سے دشمنی کرنے کا سبق نہیں دیا گیا لیکن بد اعمالیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے کا سبق دیا گیا ہے ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے۔زید سے ہم نے نفرت نہیں کرنی لیکن اگر زید بد اخلاق ہے تو اس کی بد اخلاقیوں کو ہم نے اچھا نہیں سمجھنا۔زید سے اگر ہم نفرت کریں تو اس کی بداخلاقی کو دیکھ کر ہم اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کریں گے۔اگر ہم زید کے ساتھ پیار کریں اور اس کی بداخلاقی کو بھی برا نہ سمجھیں تب بھی ہماری توجہ اس کی اصلاح کی طرف نہیں ہوگی۔پس دنیا کی اصلاح کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کو ہم برا نہ سمجھیں۔اس سے ہمارا تعلق ہمدردی، اخوت، محبت اور پیار کا ہو اور اس کی جو برائیاں ہیں ان کو ہم برداشت نہ کریں اور اس کی محبت میں اس کو اس کی برائیوں سے بچانے کی کوشش کریں۔یہی اصلاح ہے یہی اشاعت اسلام ہے۔یہ جو محبت پیار غمخواری ہمدردی کا پیغام اسلام نے دیا ہے۔اس نے آج غالب آنا ہے اس کو غالب کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں نے نہیں آنا کیونکہ اگر آسمان سے