مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 228

فرموده ۱۹۷۰ء 228 د مشعل راه جلد دوم پر بہت صحت مند اور متوازن اثر پڑے گا۔تعلیم یافتہ مردوں اور عورتوں کی آئندہ نسلوں کے ذہنوں کو نہ ہی تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف جو ہمارا خالق و مالک اور پروردگار ہے پھیر دے گی۔ذرا سوچئے اور غور کیجئے اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نئے حقائق دریافت کرنے کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی۔نئے علم کی تلاش ایسی سمتوں میں کی جائے گی اور ایسے خطوط پر آگے بڑھے گی جو ہماری جسمانی اخلاقی اور روحانی بہتری اور خوشحالی کے عین مطابق ہوں گے۔اس کے نتیجہ میں ہم ایک دوسرے کے متعلق اور دنیا کے کل انسانوں کے متعلق یہ سوچنا اور سمجھنا شروع کردیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہیں جنہیں زندہ رہنے اور خوشحالی سے ہمکنار ہونے کا مساویانہ حق حاصل ہے اور یہ کہ ان سب پر خود اپنے بارہ میں اپنے ہم جنس ساتھیوں کے بارہ میں اور اللہ تعالیٰ کے بارہ میں بعض فرائض عائد ہوتے ہیں جنہیں بجالانا ضروری ہے۔ایسا نقطہ نظر اور رویہ ہماری حصول علم کی جد و جہد کو بہر نوع مناسب مقامات پر اور مناسب حدود کے اندر رکھنے میں بہت ممد ثابت ہوگا۔اس کے نتیجہ میں ہماری حصول علم کی جد و جہد ہم میں عجز وانکسار پیدا کرے گی نہ کہ کبروغرور اور نخوت۔ہماری زندگیاں خود ہمارے لئے اور تمام دوسرے انسانوں کے لئے زیادہ اہم اور زیادہ مفید بن جائیں گی۔علم ہمیں ضرور حاصل کرنا چاہیئے لیکن جوعلم ایسا کر دکھانے میں ناکام رہتا ہے۔اس کی ناکامی ظاہر وباہر ہے۔بنیادی طور پر ہی وہ ناکامی سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دُعا میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارا رحمن و رحیم خدا ایک بہتر زندگی کے لئے ہماری کوششوں کا رُخ مناسب سمت کی طرف پھیر دے۔وہ اپنے فضل سے ہمیں اُن غلطیوں سے بچالے جو ہم سے سرزد ہوسکتی ہوں اور ہماری ان غلطیوں کو معاف کر دے جو ہم سے سرزد ہو چکی ہوں۔وہ ہماری اچھی نیتوں اور نیک ارادوں پر نظر کرتے ہوئے ہماری حقیر کوششوں اور تھوڑے اعمال کو ہی اپنے فضل سے قبول فرمالے۔اور خواہ ہم اس کے مستحق ہوں یا نہ ہوں وہ محض اپنے فضل سے ہی ہمیں اپنی تائید و نصرت اور اپنی رضا اور اپنی خوشنودی سے نوازے۔وہ ان لوگوں کے قلوب واذہان میں دوبارہ جا داخل ہو۔جنہوں نے اسے بھلا دیا ہے اور اپنے خیالات تک سے اسے باہر نکال دیا ہے۔وہ انہیں اپنے آپ پر اور ان اسباب پر جو انہیں حاصل ہیں بھروسہ کرنے کی حماقت اور اس کے برے انجام سے بچالے۔اے قادر و عزیز خدا! اے تمام اشیاء اور ان کے خواص کے خالق ! اے ہمارے ہادی و ناصر ! حقیقی اور کار آمد علم کے دروازے ہمیشہ تیرے ہی فضل اور تیری ہی رحمت کے نتیجہ میں کھلتے رہے ہیں۔ان دروازوں کو ہم میں سے ان پر کھول دے جو تلاش علم کی جدوجہد میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ان دروازوں کو ہم پر بھی کھول اور ہماری آئندہ پر کھولتا رہ تا کہ تیری پیدا کردہ ہر چیز کی ماہیت کو سمجھنے والی بصیرت ہمیں ملے۔تاکہ ہم ہر اس چیز سے آگاہ نسلوں پر