مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 216
دوم فرموده ۱۹۶۹ء 216 د دمشعل چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاؤ گے تو ہم ایک اور قوم لے آئیں گے جو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے والی ہوگی۔خدا تعالیٰ کے وعدے تو پورے ہو کر رہیں گے لیکن وہ قوم جس نے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھایا اور اللہ تعالیٰ کو اس کی جگہ ایک اور قوم کو لانا پڑا) وہ تو بڑی ہی بد بخت ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے لوگوں کو اپنی انتہائی محبت سے نوازنا چاہا مگر انہوں نے اپنے نفس کے موٹاپے کی وجہ سے اس محبت کو ٹھکرا دیا اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کا مورد بنا لیا۔پس احمد نی مسلمان تو ایسی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ ایک قادرانہ فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جو کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہے ( بظاہر کام تو سارے اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ) وہ تو انشاء اللہ پورا ہوگا اسلام کو ضرور غلبہ حاصل ہوگا دُنیا کی کوئی طاقت اس کے راستے میں روک نہیں بن سکتی لیکن وہ لوگ بڑے ہی مبارک ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی جنتوں میں لانے کے لئے دُنیا میں ظاہر یہ کرتا ہے کہ ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔مگر کیا انسان اور کیا اس کی کوشش وہ دنیا جو اس وقت اسلام کی مخالف ہے اس کے مقابلہ میں ہماری یہ طاقت یا ہماری یہ دولت یا ہمارے افراد کی یہ تعداد کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتی۔لیکن بہت سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تھوڑوں کو یہ توفیق دے دی۔گرچہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ تھوڑوں کو توفیق تو دے ہی دیتا ہے۔مگر اس کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں گناہ اپنی قدرت بیچ میں نہ ملاتا تو وہ نتیجہ نہ نکلتا جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے۔ساری دنیا ہماری مخالف ہے اور ساری دنیا میں ہم خدا کے نام کی آواز کو بلند کرنے کے لئے اور ساری دنیا کے دلوں میں ہم حضرت نبی اکرم ﷺ کی محبت گاڑنے کے لئے پھر رہے ہیں۔ربوہ کی گلیوں میں بعض نوجوان پھرتے ہیں آپ ان کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر آپ کے دل میں ان کی کوئی قدر پیدا نہیں ہوتی۔لیکن جب جماعت ان کو باہر بھیج دیتی ہے۔مثلاً افریقہ کے کسی ملک میں اور جب وہ وہاں پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کرتے ہیں اور وہاں سے رپورٹیں آتی ہیں کہ یوں وہاں کے پریذیڈنٹ نے محبت اور عزت کا سلوک کیا تو پھر دیکھنے والی آنکھ اندازہ کر سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر محبت اور پیار کرنے والا ہے اور کس طرح ذرہ نا چیز کو جب اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے ذریعہ سے اپنی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔پس دنیا کی نظر سے وہ ذرہ پوشیدہ ہو جاتا ہے۔دنیا کو تو اللہ تعالیٰ کی وہ انگلیاں نظر آ رہی ہوتی ہیں جن سے اس نور السموت والارض کا نور پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا ہوتا ہے اور دنیا کی آنکھیں چندھیا رہی ہوتی ہیں۔تقوی میں ساری عزت ہے پس اللہ تعالی کے فضل کے بغیر تو کوئی بات ہو نہیں سکتی اور اللہ تعالیٰ کا اب تک یہ فضل رہا ہے۔امید ہے کہ انشاء اللہ ایک لمبے عرصے تک یہ فضل رہے گا اور یہ جماعت سرداروں اور قائدین کی جماعت رہے گی۔