مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 215
215 فرموده ۱۹۶۹ء دد دو مشعل راه جلد دوم نئے صدر کو بھی بڑی ہمت دی ہے اور بڑا خلاص دیا ہے جو ظاہری آنکھ دیکھتی ہے۔لیکن میری آنکھ یا آپ کی آنکھ نے تو فیصلہ نہیں کرنا۔فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ نے کرنا ہے۔اس لئے ہم تو صرف دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس سے زیادہ اخلاص ہو جو ہمیں نظر آتا ہے۔اس سے بھی زیادہ عزم و ہمت اور بے نفسی و فدائیت ہو جو ہمیں بظا ہر دکھائی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت میں سینکڑوں ہزاروں ایسے نوجوان پیدا کرے جو قیادت کرنے کے اہل ہوں۔یہ جماعت سرداروں کی جماعت ہے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو سادات کی یا سرداروں کی یعنی قیادت کرنے والوں کی جماعت بنایا ہے۔ہماری جماعت ایسی جماعت نہیں ہو کہ جس میں سے ایک کے قائد بن جانے کے بعد باقی ساری کی ساری جماعت میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہو۔کیونکہ پھر تو چوٹی کی بلندیاں اونچی نہیں ہوتیں۔چوٹی کے لیے تو پھرا تنے ہی بلند زاویئے بھی قائم کرنے پڑتے ہیں اور اس ڈھلوان پر چاروں طرف سے Queue ( کیو ) لگا ہوتا ہے۔قطار بنی ہوتی ہے جن میں سے ہر ایک اہل ہوتا ہے۔اس بات کا اگر اللہ تعالیٰ منشاء اس طرح ہو کہ اگر مثلاً ایک نو جوان چالیس سال کا ہو گیا ہے تو اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹے تو دوسرا آگے قدم بڑھا کر اس کی جگہ لے لے جس کی تربیت انتظامی لحاظ سے بھی ہو اور جس پر روحانی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت بھی ہو۔پس یہ جماعت ہے ہی سرداروں کی جماعت۔اس کی راہ میں بے ہوش پڑے ہوئے افراد تو آپ کو نظر آئیں گے۔لیکن ان کی تعداد بڑی تھوڑی ہے یہ جماعت ایک مضبوط دل رکھنے والی اور بڑی ہی پیاری جماعت ہے مجھے تو ان لوگوں کے خطوط آتے رہتے ہیں جنہیں غیر بڑی تکالیف پہنچاتے ہیں۔ابھی آج ہی میں ڈاک میں ایک خط پڑھ کر آیا ہوں کہ اس طرح ہم نئے نئے احمدی ہیں اور اس طرح پر ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے لیکن ہم نے لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ہم پوری مضبوطی کے ساتھ اور علی وجہ البصیرت احمدیت پر قائم ہیں اور مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور حقیقت یہی ہے اور قرآن کریم نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ جماعت جس میں ثبات قدم پایا جاتا ہے۔اس پر ملائکہ (فرشتے) بھی رشک کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ کا یہی حال تھا ہمارے متعلق بھی یہی کہا گیا ہے کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی واسطے بار بار فرمایا ہے کہ جس طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم کے اندر ایک عظیم انقلابی تبدیلی پیدا ہوگئی تھی میری جماعت کو بھی چاہیے کہ اس قسم کی روحانی تبدیلی اپنے اندر پیدا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو وہ بھی اپنی زندگیوں میں پورا ہوتے دیکھ لیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدے تو ضرور پورے ہو کر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے کسی فرد یا کسی قوم یا کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے۔