مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 205

205 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم کی نگاہ میں ولی بن گئے مگر ہمیں نظر نہیں آتے۔کیونکہ دراصل ولی وہ ہوتا ہے جو نظر نہ آئے۔چونکہ جو خدا تعالیٰ کی ذات میں گم ہے وہ نظر کیسے آئے گا۔جو ولی آپ کو باہر نظر آتے ہیں وہ ولی نہیں ہوتے بلکہ نمائشی ہوتے ہیں۔سوائے مامور کے کہ جس کو اللہ تعالیٰ خود ظاہر کرتا ہے اولیا مخفی رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں تو خلوت کا عاشق تھا۔مجھے دنیا میں باہر نکنے کا کبھی خیال نہیں آیا تھا اللہ تعالیٰ کی زبر دست قدرت نے مجھے اٹھایا اور کہا کہ چل اور یہ کام کر ورنہ میں تو یہ چاہتا تھا کہ مرتے دم تک تنہائی اور خلوت میں اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہوں۔مجھے دُنیا سے کیا غرض اور دنیا کی آنکھ اُسے دیکھ نہیں سکتی وہ ظاہر نہیں ہوتا اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود ظاہر کر دے یا ان کے ایک حصے کو ظاہر کر دے۔میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے ہزاروں واقعات ایسے ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت اور پیار کے جلوے پائے جاتے ہیں لیکن آپ نے ان کو ظاہر نہیں کیا لیکن جو واقعات نشان بنے والے تھے ان کو آپ نے ظاہر کر دیا۔پس سارے نبیوں یا ولیوں کو تو دنیا نہیں جانتی لیکن جو حصہ دنیا کو انا اور پہچانا چاہئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ جاؤ باہر نکلو۔دنیا دیکھ لیتی ہے کہ تم کیسے ہو۔پس اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں کئی ولی ہیں مگر وہ بالعموم پوشیدہ رہتے ہیں۔کمزوروں کی اصلاح کی فکر کریں غرض ہماری جماعت کے کسی حصہ میں erosion (اروژن ) نہیں ہونا چاہیئے۔ہماری جماعت پتھر کی پختہ دیوار کی طرح ہے۔ہمیں یہ بات بھی برداشت نہیں کرنی چاہئے کہ کوئی جاہل اس دیوار پر اپنے ناخن سے ایک لکیر کھینچے اور چند ذرے اس دیوار کو چھوڑ کر علیحدہ ہو جائیں۔یعنی اگر ایک آدمی بھی حقیقی معنوں میں احمدی نہیں ہے تو ہمیں یہ برداشت نہیں کرنا چاہیئے اور برداشت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں غصے کا اظہار کرنا چاہیئے۔ہمیں اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیئے اس پر ہمیں رحم آنا چاہیئے۔ہمیں ہر وہ تدبیر عمل میں لانے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ اپنے قومی کو صحیح رنگ میں نشو و نما دے سکے۔اور اللہ تعالیٰ کا پیارا بن سکے جماعت نے اللہ تعالیٰ کا پیارا تو بنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان کردہ بشارتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی بشارتیں دی ہیں۔آپ نے ایک نہایت ہی حسین تعلیم دی ہے جس کا انسان خود ہی گرویدہ ہو جاتا ہے پھر انعام بھی بہت بڑی چیز ہے۔ابھی چھوٹے چھوٹے انعام دیئے گئے ہیں۔بہت سے لوگ دوڑ بھی نہیں سکتے لیکن اس امید پر دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں کہ شاید ہم فسٹ آجائیں وہ دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان میں اور فسٹ آنے والے میں نصف کا فاصلہ ہوتا ہے یعنی پچاس گز اس نے