مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 204
دو مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 204 اس کے پیدا کرنے کا طریق آپ نے یہ بتایا ہے کہ کوئی روک اور حجاب بیچ میں نہ رہے یعنی عقلی طور پر ایسے شخص کو سمجھایا جائے یہ پہلے عقلی طریق سے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ ذہنی قوئی پہلے ہیں اور اخلاقی اور روحانی قولی بعد میں آتے ہیں۔پس پہلے عقلی طور پر اس کو سمجھایا جائے اور عقلی دلائل کی تائید میں نقلی دلائل سے بھی کام لینا چاہیئے غرض اس کو یہ بتایا جائے کہ دیکھو جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے تو اس کی عظمت اور اس کے جلال کا اس قسم کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان ساری دنیا کو بھول جاتا ہے۔اس کی نظر میں کسی چیز کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔سوائے خدا تعالیٰ کے اس کے سامنے اور کوئی باقی نہیں رہتا۔پس ایسے شخص کو اس سعادت سے بہرہ مند کرنے کے لئے مستعد کیا جائے۔اور صاف کیا جائے اور اس کے گند کو دور کیا جائے اور اس کو نفس کی آفات سے محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے تب وہ صفات باری تعالیٰ کا اثر قبول کرنے کے قابل ہوگا اور خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ اس کے مصفہ اور شفاف دل پر نازل ہوگا۔اور پھر وہ بھی دوسرے ہزاروں لاکھوں احمدیوں کی طرح ایک مضبوط انسان بن جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے فرمایا ہے کہ جو تقلید اور عقل ہے یہ روحانیت پیدا کرنے کا ذریعہ تو بن سکتی ہے لیکن ان کے اندر وہ طاقت نہیں ہے جو ایک جاہل انسان سمجھتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔تقلیدی علوم محدود اور مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص و نا تمام ہیں اور ہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان کی توسیع کریں۔(ازالہ اوہام صفحہ ۲۲۸) لیکن چونکہ ذہنی قومی جن کا عقل کے ساتھ تعلق ہے ان کی صفائی ضروری ہے اس واسطے ایک نوجوان ذہنی طور پر تیار ہوسکتا ہے۔ایسا ممکن ہے۔کیونکہ پہلے انبیاءعلیہم السلام کی مثالیں، پہلے اولیاء کی مثالیں۔اختیار وابرار کی مثالیں اور اس قسم کے دوسرے شواہد ہمیں بتا رہے ہیں کہ ایک انسان کا دل اور اس کی روح ایسی صاف اور شفاف ہو جائے اور وہ مستعدی اور انفعالی طاقت اس کے اندر پیدا ہو جائے کہ اس کی پاکیزگی اور اس کی صفائی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ جونور محض اور پاکیزگی کا سر چشمہ ہے وہ اپنے جلال کا جلوہ اس پر ظاہر کرے۔اولیاء اللہ بنیں ہم سب سے بڑھ کر حضرت نبی اکرم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے ( جو دراصل تمام اسووں کا منبع اور سر چشمہ ہے) اس پر وہ غور کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بحیثیت جماعت آپ کے اولیاء کی جماعت دیکھنا چاہتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اولیاء بنو جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور محض اس کی توفیق سے ہر قسم کے قومی کو اس کی ہدایات اور روشنی کے مطابق اور ارتقائی مدارج میں سے گزارا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کی روحانیت بڑی بلند ہوگئی۔وہ تو خدا تعالیٰ