مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 187 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 187

187 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم ہے۔اس وقت ہم آپ کے ذہن میں روحانی ہیرے Stock ( سٹاک) کر سکتے ہیں۔اس میں یہ روحانی جواہرات بھر سکتے ہیں۔لیکن وہ پہچان جو ایک جوہری کو ہیرے کی ہوتی ہے وہ آپ کو اس عمر میں حاصل نہیں ہوسکتی۔ایک جوہری کے پاس مثلا اگر کوئی بڑا سا پتھر یہ سمجھ کر لے جائے کہ اس کی بڑی قیمت ہے تو جو ہری دیکھ کر کہتا ہے کہ اس کا حجم تو بڑا ہے مگر اس کے اندر ایک بال آیا ہوا ہے اور یہ دراصل ہیروں کے دو چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے اس لئے اگر یہ بال نہ ہوتا تو اس کی قیمت ایک لاکھ روپے ہوتی اور اب چونکہ اس کے اندر ایک بال آیا ہوا ہے اس کی قیمت پچاس ہزار روپے ہے۔پس آپ اس وقت یہ فرق نہیں کر سکتے کیونکہ اس وقت آپ کو اس کی سمجھ اور فراست عطا نہیں ہوئی۔البتہ ہم امید رکھتے ہیں اور ہماری دعائیں ہیں اور کوششیں بھی جاری ہیں کہ آپ بڑے ہو کر ایک ماہر جوہری کی طرح ایک قیمتی ہیرے اور ایک ناقص ہیرے میں یا ایک ہیرے اور ایک شیشے کے ٹکڑے میں فرق کر سکیں گے۔یہ عمر آپ کی ایسی عمر نہیں ہے۔آپ کی اس عمر میں ہمارا یہ کام ہے کہ آپ کے ذہنوں کو روحانی خزائن میں سے قیمتی ہیرے منتخب کر کے ان سے بھر دیں۔پھر جب آپ بڑے ہوں گے تو پھر انشاء اللہ ان روحانی ہیروں اور جواہرات کی قدر و قیمت آپ پر خود بخود کھل جائے گی اور آپ ان سے فائدہ اٹھانے لگ جائیں گے۔حافظے سے کام لے کر دلائل یا د کر لیں پس آج آپ کو میرا یہی پیغام ہے کہ آپ اپنے حافظہ سے کام لیتے ہوئے قیمتی اور بنیادی دلائل کو یاد کر لیں کیونکہ اس وقت آپ کی حافظہ کی عمر ہے ذہانت اور فراست کی عمر نہیں ہے۔ان قیمتی اور بنیادی دلائل (جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے روحانی خزائن کا ایک حصہ ہیں) میں سے نہایت ہی بیش قیمت ہیرا اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا بیش بہا ہیرا اعطا ہوا ہے جس کے مقابلہ میں ہر چیز ریت کا ایک ذرہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ہے۔یہ ایک وسیع اور بڑا باریک اور دقیق مضمون ہے جسے سمجھنے کے لئے ذہانت اور فراست کی بھی ضروت ہوتی ہے لیکن آپ اس وقت اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے قابل نہیں ہیں لیکن پانچ ، دس، ہیں سال کے بعد انشاء اللہ قابل ہو جائیں گے اور آپ ایک ما ہر جوہری کی طرح اس ہیرے کی قیمت کو پہچاننے لگ جائیں گے۔اس وقت اس کو آپ اپنے ذہن میں محفوظ کر سکتے ہیں تا کہ شیطان اس کو چرا کر نہ لے جائے اور آپ کے دل میں وسوسہ نہ پیدا کر سکے اس لئے آپ کو اللہ تعالی اور اس کی صفات کواز بر یاد کر لینا چاہیئے۔آپ کے حافظہ کی تھیلی میں یہ سب سے زیادہ قیمتی جو ہر ہے نیز دیگر قیمتی ہیرے جواہرات جو ہیں وہ محفوظ ہو جائیں۔یہ سمجھنے سمجھانے کے لئے دنیوی مثال ہے ورنہ اس خزانے کی جو اصل اور روحانی قدرو قیمت ہے اس کے مقابلے میں ساری دنیا کی مادی دولتیں نیچے ہیں۔مگر یہ خزانہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے لیکن اس مضمون سے تعلق رکھنے والی ایسی چیز جو آپ کی اس عمر میں آپ کے