مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 186
فرموده ۱۹۶۹ء 186 د دمشعل را س راه جلد دوم تب بھی شاید ہی اس کی قیمت ادا ہو سکے۔سنو کہ انسان کا ذہن بھی ایک تھیلے کی حیثیت رکھتا ہے۔جس طرح ہم تھیلے میں پتھر کے ٹکڑے یا ہیرے جواہرات بند کر دیتے ہیں اسی طرح ہم دماغ میں روحانی ہیرے اور جواہرات بھی بند کر سکتے ہیں۔پس ایک دماغ وہ ہے جس کے اندر روحانی ہیرے اور جواہرات ہیں اور دوسرا دماغ وہ ہے جس میں روحانی طور پر چھوٹے چھوٹے بے قیمت پتھر بھرے ہوئے ہیں ان میں سے کون سا دماغ اچھا ہے ( سب بچوں نے بیک زبان عرض کیا ہیروں اور جواہرات والا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روحانی خزائن تقسیم کرنے آئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق حضرت نبی اکرم ﷺ کی یہ پیشگوئی تھی کہ آپ بڑی کثرت سے روحانی خزائن کو دنیا میں تقسیم کریں گے۔یہ ہم میں سے بڑوں کو بھی ملے اور چھوٹوں کو بھی ملے ہیں۔لیکن چونکہ آپ کو ورثہ میں ملے ہیں اور آپ کے ماں باپ نے یہ غفلت برتی کہ آپ کو ان ہیروں اور جواہرات کی قدروقیمت نہیں بتائی۔اس لیے آپ عدم تربیت کی وجہ سے اپنے دماغ کے تھیلے بے قیمت پتھروں سے بھرتے ہتے ہیں اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ آپ اپنے دماغوں کو بے بہا روحانی ہیروں اور بیش قیمت روحانی جواہرات سے بھریں یہ ایک مقابلہ ہے جو عدم تربیت اور جدوجہد برائے تربیت میں کارفرما ہے۔یعنی آپ کا ما حول یا آپ کے والدین کی غفلت آپ کو ایک طرف کھینچ رہی ہے اور آپ کو بے قیمت اور کم مایہ بنانا چاہتی ہے کہ آپ کا کوئی مول نہ ہو۔جس طرح آوارہ کتوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔انسان جب سمجھتا ہے کہ کتے بہت ہو گئے ہیں تو بندوق کے ساتھ یاز ہر دے کر ان کو مار دیتا ہے۔آپ کا ماحول جس کی ایک حد تک ذمہ داری آپ کے والدین پر ہے آپ کو ایک ایسا ذہن بنانا چاہتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں اور ہماری کوشش رہتی ہے کہ آپ کے ذہن کا تھیلا ان روحانی خزائن سے بھر جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت محمد مصطفی اللہ کے خزانے سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صرف ہمارے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے لائے ہیں اور جن کا سلسلہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔ہماری یہ کوشش جاری ہے۔شیطانی وساوس ہمارے مقابلے میں ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ہی جیتیں گے اور آپ معصوم بچے نہیں ضائع ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے دو چیزیں رکھی ہیں کہ آپ کی یا تو ایک بندر کی قیمت ( قرآن کریم میں بھی بندر کی مثال بیان ہوئی ہے ) یا ایک انسان کی قیمت پڑے جس کے ذہن میں روحانی قیمتی جواہرات بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔بچوں کی عمر حافظے کی عمر ہے ویسے آپ کی جو عمر ہے یعنی سات سے پندرہ سال کی عمر یہ فراست کی یا ذہانت کی عمر نہیں ہے بلکہ حافظہ کی عمر