مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 119
119 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم ہوتے ہیں وہ ناک صاف نہیں کرتے اور اس کے نتیجہ میں اس بچے کو ایسی گندی عادت پڑ جاتی ہے کہ جب وہ ۲۵ ، ۴۰،۳۰ یا ۰ ۵ سال کا ہو جاتا ہے تب بھی اس کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ناک بہہ کر میرے ہونٹوں پر آ گیا ہے اور دیکھنے والوں کے دل متلا جاتے ہیں۔دیکھ کر بڑی گھن پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صفائی کو قائم رکھنے کیلئے یہ انتظام کیا ہے کہ جب ناک بہتا ہے تو ہونٹ کے اوپر کے حصہ میں گدگدی ہوتی ہے۔اور فوراً انسان کا رومال او پر اٹھتا ہے اور وہ ناک کو صاف کر دیتا ہے۔لیکن بچپن میں جب ماں باپ یا گھر کے دوسرے افراد چھوٹے بچوں کا ناک صاف نہیں کرتے تو آہستہ آہستہ یہ حس ماری جاتی ہے یا دب جاتی ہے۔احساس باقی نہیں رہتا اور چونکہ احساس باقی نہیں رہتا اس لئے یہ گندگی بڑی عمر تک ساتھ چلتی ہے۔پھر بڑی مشکل سے اس عادت کو اور اس بے حسی کو دور کیا جاتا ہے۔جسم کی صفائی اہم ہے غرض بچپن کا زمانہ ہی بنیادوں کو قائم کرنے کا ہے اور بچپن ہی میں نیکی کی بنیاد قائم کی جاسکتی ہے۔ہمیشہ آپ بچوں کو یہ وعظ اور نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ صاف رہا کرو۔مناسب وقتوں پر نہانا ضرور چاہیے تاکہ جسم کی گندگی دور ہو جائے۔جسم کے جو حصے ہر وقت ننگے رہتے ہیں۔مثلاً چہرہ ہے، ہاتھ ہیں، پاؤں ہیں ان کو دن میں کم از کم پانچ بار وضو کرتے ہوئے اچھی طرح دھونا چاہیے۔نبی اکرم ﷺ نے صفائی پر اس قدر زور دیا ہے کہ آپ نے فرمایا اپنے مخنوں کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ۔یہ نہ ہو کہ دھوتے وقت بے خیالی میں پاؤں کے کچھ حصے بغیر ڈھلے کے رہ جائیں اور اس طرح تم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے لو۔منہ کو دھونا چاہیے ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرنا چاہیے۔آنکھوں کو مل کر دھونا چاہیے تا کوئی گند نظر نہ آئے۔اچھی طرح کلی کر کے دانتوں کو صاف کرنا چاہیے اور اگر ہو سکے تو ہر کھانے سے پہلے دانتوں اور منہ کو صاف کرنا چاہیے اس سے دانت بڑے مضبوط رہتے ہیں۔اس میں جسمانی فائدہ بھی ہے اور معاشرہ میں بھی اس کا بڑا فائدہ ہے۔آپ تو نبی اکرم ﷺ کے وہ بچے ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو اپنے سینہ سے لگانا ہے۔ہم نے پیار کے ساتھ ساری دنیا کو محمد رسول اللہ ہی اللہ کیلئے جیتنا ہے اور اس پیار کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے قریب جائیں اور ان کو اپنے سینہ سے لگائیں۔اگر کوئی عیسائی یا د ہر یہ ہم سے زیادہ صاف ہو تو وہ کہے گا یہ میرا دل جیتنے آئے ہیں لیکن انہوں نے منہ اور جسم کی بدبو سے میرے دماغ کو پریشان کر دیا ہے۔پس اگر ہم صفائی کی عادت نہ ڈالیں تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے اور دنیوی چیز ہے لیکن دنیا کی کوئی چھوٹی چیز بھی نہیں جس کا ہمارے مذہب نے یا نبی اکرم ﷺ نے حکم نہ دیا ہو۔ہر چیز ہی اہم ہے اور ہر چیز ہی موثر ہے اور ہر چیز کا ایک نتیجہ نکلتا ہے جو اسلام کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔ذریت طیبہ بنے اور نیکی پر قائم رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ بنیاد مضبوط ہو جو مکان