مسیح کشمیر میں — Page 83
83 83 قیامت کے دن شودروں کو جہالت کی وجہ سے بہت کچھ معاف کر دیگا اور ان کو عذاب دیگا جو مزدوری سے خدائی اختیارات کے آپ مختار بن بیٹھے ہیں۔ولیش اور شودروں نے آپ سے سوال کیا کہ وہ کس طرح دعا کریں؟ تو آپ نے فرمایا مورتیوں کی پوجامت کرو کہ وہ سن نہیں سکتیں۔ویدوں کومت سنو کیونکہ ان میں سچائی کا خون کیا گیا ہے۔اپنے آپ کو سب سے بڑا مت سمجھو اور اپنے ہمسایوں کو ذلیل مت کرو۔غریبوں کی مدد کرو، کمزوروں کو پناہ دید و کسی کا نقصان نہ کرو اور دوسروں کی چیز کی طمع مت کرو۔پر ماتما ( خدا ) کو چمڑے کی ان آنکھوں سے نہیں دل کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں اور دل کو پاک کریں۔پاک دل ہی خدا کی رحمت کے حصول کے لائق ہے۔ابدی مسرت نہ صرف اپنے آپ کو بنانے سے حاصل ہوگی بلکہ اوروں کو راہ راست دکھانے سے بھی۔مسیح کی یہ تعلیم اسلام کے مطابق ہے اور عقائد کے بارے میں عیسائیوں کے موجودہ نظریات کے خلاف ہے لیکن انجیل کی تعلیم سے ملتی جلتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ عملی تعلیم دینے والا انجیل ہی کا واعظ ہے نہ کوئی دوسرا۔یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات فصل پنجم از نکولس نوٹو وج مترجم اردو 1899 ء مطبع جالندھر۔