مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 79 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 79

79 بھارتی اخبارات میں مسیح کے سفر کشمیر کا ذکر بھارت کے بڑے بڑے اخبارات میں بھی مسیح کے سفر کشمیر پر باتصویر مضامین چھپتے رہے ہیں۔1972ء میں جے۔این سادھونامی ایک محقق نے بھارت کے مشہور انگریزی میگزین السٹریٹد ویکلی انڈیا (بمبئی) میں اپنا سفرنامہ کشمیر شائع کرایا تھا۔اس میں مسیح کے سفر کشمیر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور لکھا ہے کہ مسیح نے فلسطین سے نصیبین اور نصیبین سے فارس کا سفر کیا۔فارس سے وہ افغانستان آئے اور وہاں سے پنجاب میں داخل ہوئے۔پنجاب سے گلگت گئے ، وہاں سے پھر پنجاب آئے اور بنارس میں وعظ کرتے رہے۔یہاں سے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے پھر گلگت چلے گئے اور وہاں کچھ وقت گزار کر لداخ ، تبت اور نیپال گئے اور یہاں سے کشمیر میں چلے گئے اور وہاں عرصہ رہ کر محلہ خانیار ( سرینگر ) میں وفات پائی۔مضمون نگار نے لکھا ہے کہ آپ اپنے شاگردوں اور پیروؤں کے ہمراہ سرینگر تشریف لائے اور عس بر (یا عش بر) کے مقام پر جو مشہور شالیمار باغ کے قریب واقع ہے ، آپ نے قیام کیا۔راج ترنگنی ( کشمیر کی قدیم تاریخ) کی رُو سے اس مقام کا یہ نام بھی اس کے بعد رکھا گیا جب ( حضرت ) عیسی وہاں ایک چشمہ کے قریب ٹھہرے۔یہ چشمہ اب بھی موجود ہے اور مقامی آبادی کے ایک حصہ کے نزدیک متبرک خیال کیا جاتا ہے۔(حضرت) عیسی واقعہ صلیب کے بعد بیچ کر ہندوستان میں آئے اور سرینگر کی قبر پر ایک لوح پر عبرانی زبان میں کچھ کندہ ہے لیکن گھس جانے کی وجہ سے بہت مدھم ہو گیا ہے اور اس کا پڑھا جانا مشکل ہے۔ہند و محقق نے بعض مغربی سیاحوں کے حوالہ جات بھی مسیح کے صلیب سے بیچ کر کشمیر میں وفات پانے کے بارے میں نقل کئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ عجیب حسن اتفاق ہے اور کیا یہ حسن اتفاق ہے؟ کہ کشمیر میں ایک قومی روایت یہود کے ساتھ تعلق کے بارے میں پائی جاتی ہے۔اس سرزمین میں بہت سالوں تک یہ افواہ پھیلی رہی کہ حقیقت میں حضرت مسیح کی وفات سولی پر واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ آپکو اس پر سے اتارلیا گیا تھا اور گمشدہ اسرائیلی قبائل کی تلاش میں آپ وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔آپ کشمیر، لداخ اور تبت خورد گئے اور وہاں وفات پا کر سرینگر میں مدفون ہوئے۔ہمیں حمد اخبار مذکور 2 اپریل 1972 ء (ملخصاً)