مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 70 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 70

70 سے (حدود قائم نہ رہنے سے ) میں مسیح کے روپ میں پر گھٹ (ظاہر ) ہوا ہوں۔ملیچھوں کے بیچ میں ایشاسی بھینگر پر گھٹ ہوئی۔میں اسکو ملیچھوں سے پراپت کر کے مسیح بھاؤ کو پراپت ہو گیا۔میں نے میچھوں میں جو دھرم ستھا پن کیا ہے، راجن سے آپ سیئے۔دیہہ میں رہنے والے نیک و بد و چار روپی مل ( ناپاکی ) سے یکت ( ملوث ) من کو نرمل (صاف) کر کے ادبک نرمل ویدک جپ ( پاک و یدک ورد ) کو گرہن (اختیار) کر کے اسکا جپ کرے اور انسان نیائے اور سیتہ بانی کو من سے ایکا گر کر کے دھیان سے منڈل میں دیا پک الیش (خدا) کی پوجا کرے۔پر بھوسا کھشات اُچل ( قیوم) ہے اور سوریہ ( سورج ) ہمیشہ چلائمان ہے۔پر بھو چلائمان تنوؤں (ذروں ) کا چاروں طرف آکرشن کرنے والا ہے۔ہے راجن ! اس کرم سے مسیحاناش کو پراپت ہوگئی فیتہ شدہ تھا کلیان کاری الیش ( خدا ) کی مورتی ہر دے (دل) میں پراپت 66 ہونے کا کارن میرا عیسی مسیح یہ نام مشہور ہے۔پنڈت لکشمن نے عیسی مسیح کا بیان کے عنوان کے تحت یہ ترجمہ کر کے لکھا ہے کہ اس لیکھ میں بائیبل میں بیان شدہ مریم کے پتر عیسی کا ذکر ہے اور عیسی کے دھرم (مذہب ) کو نیائے تنقاسیہ کے یکت اور ویدک سدھ کیا گیا ہے۔اس نوٹ سے ظاہر ہے کہ یہ ترجمہ تنقیدی ہے نہ کہ اصل الفاظ کا لفظی ترجمہ، اس ترجمہ کے پیش کرنے والے نے اسے ویدک دھرم کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے۔الوچنا کی اس عبارت میں ہندی الفاظ کی بھر مار ہے۔اس کا اردو دانوں کیلئے سمجھنا مشکل ہے۔اس اقتباس کا ترجمہ نذیر احمد صاحب نے اپنی کتاب جیز زان ہیون آن ارتھ کے صفحہ 369 پر انگریزی زبان میں درج کیا ہے۔اس انگریزی ترجمہ کا اردو ترجمہ یہ ہے: سا کا آریہ دیش (انڈیا) کی طرف آئے دریائے سندھ کو عبور کرنے کے بعد کچھ ان میں سے ہمالہ کے دوسری راہوں سے آئے اور علاقہ میں لوٹ شروع کی۔کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے بعض نے یہ کام پرتی سرگ پرب کھنڈ 3۔ادھیائے 2۔شوک 21 تا 31۔بھوشیہ پر ان کی الو چناصفحہ 9 تا 11 مطبوعہ ہندوستان پر نٹنگ ورکس دہلی۔