مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 64 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 64

64 مکتوب یروشلم میں اس سے پہلے تین پیرا گراف موجود ہیں۔1 - انکی روح شاگردوں سے ملنا چاہتی تھی اور وہ خواہشمند تھے کہ کسی بات میں غفلت نہ ہو۔انکا بے چین دل تنہائی کی زندگی میں کوئی اطمینان نہیں پاتا اور وہ پریشانی انکی طاقت کو کمزور کر رہی تھی۔2 لیکن یوسف ارمنیا اور نقادیمس اسکے ساتھ آخری وقت تک تھے جبکہ چھٹا پورا چاند موجود تھا۔اس وقت وہ ہماری برادری کے پاس آئے جبکہ ہم محبت کی ضیافت میں حصہ لینے کیلئے تیاری کر رہے تھے اور ایسینی برادری کے سب کے بزرگ کو راز بتلایا۔3- ان کے دل سخت غمگین تھے کیونکہ منتخب ہستی باپ کی آسمانی رہائش گاہ پر چلی گئی۔آخری پیراگراف سے مراد یہ ہے کہ مسیح نے اس مقام پر ہجرت فرمائی جسے خدا تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ انکی رہائش گاہ تجویز کیا تھا اور وہ کشمیر ہی ہے۔جیسا کہ قرآن کے بیان اور تاریخی واقعات سے ظاہر ہے۔اس سے مراد وہ جنت نہیں جو مرنے کے بعد ملتی ہے بلکہ اس سے مراد کشمیر جنت نظیر ہے جو سیح کی ہجرت گاہ بنی اور خدا تعالیٰ نے وہاں انکی زبر دست تائید فرمائی۔قرآن وحدیث میں بچے مہاجر کی ہجرت کو اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں اِنّى مُهَاجِرٌ إِلى رَبِّی کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔پس وہ ہجرت جود ینی مقاصد کیلئے ہوتی ہے وہ ہجرت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔اسی مفہوم کے مطابق خط پر مسیح کی ہجرت کو خدا کی طرف ہجرت قرار دیا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ بائیبل میں بھی ایسا محاورہ موجود ہے جس میں زمین پر ہجرت کو خدا کی طرف ہجرت قرار دیا جاتا ہے۔چنانچہ زبوروں میں مسیح کے متعلق ہجرت کی پیشگوئی ہے۔اسے استعارہ خدا کی طرف جانا ہی قرار دیا گیا ہے۔زبور 61 میں ہے میں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لوں گا۔( آیت 4) یعنی مسیح خدا کے پروں کے سایہ میں پناہ لے گا۔پس یوسف اور نقاد یمس کا مسیح کی ہجرت کے وقت غمگین ہوانا از بس ضروری تھا کیونکہ انکا محبوب ان سے جدا ہورہا تھا۔اس جدائی کی یادگار میں نقادیمس نے بطور علامت کے اس کی قبر بحیرہ مردار کے قریب بنادی جو تصویری زبان میں ہجرت مسیح کی یاد گار تھا۔جس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یہود اسکی تلاش میں جب یہاں تک پہنچیں گے تو جان لیں گے کہ وہ وفات پاچکا ہے۔ایسینی برادری کو ان دو آدمیوں نے تدفین میں اسلئے شامل نہیں کیا کہ اصل راز کھل نہ جائے۔جو یہ تھا کہ قبر میں یسوع کو دفن نہیں کیا گیا اور قبر مصنوعی تھی۔جن کو بتلایا گیا انکو بھی ہدایت تھی کہ وہ راز کا افشاء نہ کریں۔اصل حقیقت یہی ہے کہ انکا پیارا