مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 28 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 28

باب سوئم 28 بائیل میں مسیح کے کشمیر جیسے جنت نظیر علاقہ میں پناہ لینے کا ذکر عیسائی اور یہودیوں کی کتاب مقدس بائیبل سے بھی جس میں تورات و انا جیل شامل ہیں قرآنی بیانات کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت مسیح نے ایک دور دراز جنت نظیر پہاڑی علاقہ میں پناہ لی تھی۔کتاب مقدس میں حضرت مسیح سے قبل قدیم نوشتوں کا جو حصہ ہے اس میں صراحتہ وکنایہ یسعیا ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان و حضرت حزقیل وغیرہ نبیوں کی پیشگویاں موجود ہیں جنہیں عیسائی متعلق باسیح قرار دیتے ہیں اور ریفرنس بائیبل میں فٹ نوٹ دیے گئے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں کنا بیتہ متعلق با مسیح ہیں۔حز قیل باب 37 آیت 1 تا 15 میں حزقیل نبی کی ایک مفصل رویاء کا ذکر ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک وادی میں اتارا گیا جو ہڈیوں سے پر تھی۔ان میں مردے اور مقتول بھی تھے ، مجھے خدا نے کہا کہ ان پر نبوت کر۔میں نے ان پر نبوت کی تو وہ ہڈیاں اور مردے زندہ ہو گئے۔تب خدا نے مجھے کہا کہ یہ ہڈیاں اور مردے تمام بنی اسرائیل ہیں۔( جو غیر قوموں میں ہیں ) اس رویاء کو عیسائیوں نے متعلق با مسیح قرار دیا ہے۔اگر یہ درست ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت مسیح کے بارے میں حز قیل نبی نے پیشگوئی کی تھی کہ اس کے ذریعہ وہ بنی اسرائیل جو روحانی لحاظ سے مردہ ہو چکے ہونگے دوبارہ ایمان کے ذریعہ زندگی حاصل کریں گے۔اس پیشگوئی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ منتشر بنی اسرائیل تھے جو حز قیل نبی کو رویاء میں دکھائے گئے تھے۔سو یہ پیشگوئی حضرت مسیح نے بنفسِ نفیس * پوری کی جب وہ مشرق میں ہجرت کر کے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں میں جو ایمان کے لحاظ سے مردہ ہو چکے تھے آئے اور انہیں نبوت کا پیغام دیا اور انہیں اپنے انفاخ قدسیہ سے روحانی زندگی بخشی۔اگر ایسا نہ ہو تو یہ پیشگوئی جھوٹی قرار پاتی ہے۔مسیح ایک دور دراز علاقہ میں صاحب اولاد ہوگا: ایک اور اہم پیشگوئی یسعیاہ نبی کی ہے اسے بھی عیسائی حضرت مسیح سے متعلق قرار دیتے ہیں۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ مسیح اپنی جان کی سخت مصیبت دیکھے گا مگر وہ مرے گا نہیں بلکہ ذلت کی موت سے بیچ کر مسیح کا کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بنفس نفیس آنا از روئے پیشگوئی ضروری تھا۔( حز قیل باب 34 آیت 11)