مسیح کشمیر میں — Page 27
27 نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ خود مسیح بنفس نفیس مشرق کے گمشدہ اسرائیلی قبائل میں تبلیغی مشن کو پورا کر رہے تھے اور تھوما سے انکی ملاقات بیداری میں ظاہری ملاقات تھی اسلئے آپ کے حکم کے مطابق تھو ما جنوبی ہند مدراس کی طرف چلے گئے تھے۔عیسائی تاریخوں اور روایات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ٹیکسلا میں مسیح و تصو ما حواری نے جہان کے بھائی جاد کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔حبان کی بابت بتایا جاتا ہے کہ گونڈ وفرس ( راجہ ٹیکسلا ) کا بھتیجا تھا۔پروفیسر ای۔جے رپسن (E۔J۔RAPSON) نے اپنی کتاب ”انیشنٹ انڈیا کے صفحہ 174 پر لکھا ہے کہ گونڈ وفرس شمال مغربی ہندوستان پر 21ء سے 50 ء تک حکمران تھا جس میں پار تھین اور سا کا کی پرانی حکومتیں شامل تھیں۔تاریخوں سے پتا چلتا ہے کہ 60ء میں ہندوکش کی پہاڑیوں سے کشن (KUSHAN - گشان) نامی قبیلہ نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا تو ہوسکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت تھو ما ومسیح نے ہندوستان میں پناہ لی ہو یا حضرت مسیح کشمیر چلے گئے ہوں۔مسیح کی ہدایت پر تھو ما حواری کے ٹیکسلا میں آمد کا ذکر سر جان مارشل نے اپنی کتاب ”ٹیکسلا میں بھی کیا ہے جو ہندوستان میں آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل بھی تھے۔انہی کی نگرانی میں ٹیکسلا کے آثار قدیمہ کی کھدائی ہوئی تھی۔انکی کتاب مذکور آکسفورڈ یو نیورسٹی لندن کی طرف سے 1951ء میں شائع ہوئی تھی۔سر جان مارشل نے آرامی زبان کے کتبے بھی ٹیکسلا سے برآمد کئے تھے جو سابق جلا وطن یہودیوں اور خود مسیح و تھوما کی بھی اصل زبان تھی اور ایسے کتبے افغانستان، ہزارہ وغیرہ کے قدیم آثار سے بھی ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مسیح سے قبل جلا وطن یہودیوں کی آرامی زبان یہاں بولی اور لکھی جاتی تھی مؤرخین نے لکھا ہے کہ قریباً آٹھ نو سو سال آرامی زبان شمال مغربی ہند کے علاقوں میں لکھی اور بولی جاتی رہی ہے۔شام اور ہندوستان کی تجارت کا سلسلہ بھی جاری تھا۔دوسری صدی مسیحی میں سکندریہ کا مشہور عیسائی فلاسفر اور فاضل ” پن ٹینس“ جب ہندوستان آیا تو اسکی حیرت کی کوئی انتہانہ رہی جب اس نے یہ دیکھا کہ یہاں یہودی النسل مسیحیوں کے پاس متی حواری کی انجیل موجود ہے۔حضرت مسیح کی ہندوستان میں آمد اور انکے حالات کا ذکر ہم اپنے موقعہ پر علیحدہ باب میں کریں گے۔اس جگہ پہلے مناسب ہوگا کہ ہم بائیل کی رو سے حضرت مسیح کے مشرق اور کشمیر میں پناہ لینے کے ذکر پر روشنی ڈالیں۔تاریخ کلیسیائے ہند از پادری برکت اللہ The Apostle Thomas India۔p 46۔