مسیح کشمیر میں — Page iii
= بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلّى على رسوله الكريم عرض حال آج سے پون صدی قبل جب بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے وفات مسیح کا اعلان کیا تھا اور انکشاف فرمایا تھا کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے تو دنیا میں ایک بہیجان برپا ہوا تھا مگر رفتہ رفتہ اس انکشاف کی صداقت پر عیسائیت ، ہندومت، بدھ مت اور مشرق و مغرب کے قدیم لٹریچر سے ایسے نا قابل تردید دلائل و شواہد مہیا ہوتے گئے کہ اب مشرق و مغرب کے کئی اہلِ علم اس واقعہ کو تاریخی واقعہ تسلیم کر چکے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرما چکے تھے کہ اس نظریہ کی تائید پر آئندہ بھی مزید انکشافات ہوں گے۔بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی زندگی میں حضرت عیسی کے سفر مشرق اور قیام کشمیر کے متعلق جس قدر تاریخی شواہد میسر آسکتے تھے آپ نے انہیں اپنی مختلف کتابوں خصوصاً مسیح ہندوستان میں کے اندر درج کر دیا۔آپ کی وفات کے بعد جو مزید انکشافات ہوئے ان پر سلسلہ احمدیہ کے علماء مفتی محمد صادق، قاضی محمد یوسف مردان ، خواجہ نذیر احمد مصنف ”جیز زبان ہیون آن ارتھ اور مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم نے کتابیں لکھیں۔مکرم شیخ عبدالقادر صاحب ریسرچ سکالر لاہور نے بھی اپنے محققانہ مضامین اخبارات و رسائل میں شائع کرائے جو کتابی صورت میں تا حال شائع نہیں ہوئے۔اس دوران فلسطین کے مشرق میں وادی قمران کے غاروں سے 1947 ء سے آج تک ابتدائی عیسائیوں کے مدفون و محفوظ نہایت قیمتی صحائف برآمد ہو چکے ہیں جن پر بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کی جماعتیں کام کر رہی ہیں۔یہ صحائف ” ڈیڈسی سکرولز“ کے نام سے خود عیسائی محققین منظر عام پر لارہے ہیں۔اس تمام مواد کو پیش نظر رکھ کر 1960ء میں خاکسار نے مسیح کشمیر میں“ کے نام سے ایک مختصر مضمون لکھا تھا جسے حکیم عبداللطیف شاہد مرحوم نے کتاب کی صورت میں شائع کیا تھا۔اس کتاب پر مشہور اہلِ قلم علامہ نیاز فتحپوری ایڈیٹر ماہنامہ نگار لکھنو اور بعض بھارتی ، پاکستانی اخبارات نے تبصرے کئے اور اس کے اقتباسات شائع کر کے قارئین کو دعوت غور وفکر دی۔1972ء میں کشمیر کے مسلمانوں کے علمی حلقوں میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر حسنین اور ان کی نگرانی میں محمد یاسین صاحب