مسیح کشمیر میں — Page 12
12 موعوڈ سے وابستہ کر رکھا تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں جس شخص نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے اس کے ذریعہ یہ کام انجام پا چکا ہے اور مزید نئے سے نئے شواہد بھی انکی تائید میں منکشف ہوتے جارہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔تا آنکہ عیسائی دنیا اس بات کو قبول کرلے کہ مسیح نے کشمیر کی طرف ہجرت کر کے وہیں طبعی وفات پائی تھی اور وہ صلیب پر ہرگز مرا نہیں تھا۔چنانچہ اب بڑے زور وشور کے ساتھ اس بارہ میں ریسرچ ہورہی ہے کہ مسیح صلیبی موت مرایا نہیں ؟ اور ایک گروہ اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ مسیح صلیبی موت سے بچ گیا تھا۔مشرقی ملکوں میں تبلیغ اور آپ کی قبولیت قرآن مجید نے یہ خبر دی ہے کہ ہم نے مسیح کی والدہ مریم کو پہلے ہی بشارت دی تھی کہ مسیح دنیا و آخرت میں وجاہت حاصل کرے گا۔وہ (مسیح) سیاحت کرنے والا ہوگا اور چھوٹی عمر میں ہی دین و حکمت کی باتیں کریگا اور ادھیڑ عمر میں بھی تبلیغ کریگا اور لوگوں کو کلام الہی سنائے گا۔جیسا فرمایا: إذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ۔وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَمْلاً وَمِنَ الصَّالِحِين ) (آل عمران : 46-47) یعنی خدا کے فرشتوں نے مریم کو بشارت دی کہ اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام سیاحت کرنے والا عیسی بن مریم ہوگا۔وہ دنیا اور آخرت میں وجاہت حاصل کر یگا اور میرے مقرب بندوں میں سے ہوگا اور وہ لوگوں کو اوائل عمر میں بھی کلام سنائے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور نیکو کاروں سے ہوگا۔اس آیت سے مسیح کی زندگی کے دو (2) دور بیان کئے گئے ہیں ایک مھد یعنی اوائل عمر کا ور دوسرا کھل یعنی ادھیڑ عمر کا اور زندگی کے ان دونوں حصوں میں کلام سنانے سے مراد کلام الہی سنانا ہے نہ عام کلام جیسا بعض لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ عام کلام تو سب لوگ ہی سنا سکتے ہیں پھر اس مسیح کی کیا خصوصیت تھی جسے خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔نیز واضح رہے کہ الہامی نوشتوں میں کلام سے مراد ” کلام الہی ہوتا ہے۔سو مهد یعنی تیاری کے زمانہ میں حضرت مسیح نے فلسطین میں کلام الہی یعنی تو رات سنائی اور رسالت ملنے پر فلسطین کے بنی اسرائیل کو بھی اپنا پیغام پہنچایا اور پھر ہجرت کرنے کے بعد مشرق میں گمشدہ آباداسرائیلیوں