مسیح کشمیر میں — Page 6
6 536 قبل مسیح خورس ( ذوالقرنین شاہ ایران ) نے ان اسیروں کو واپس وطن جانے کی اجازت دے دی۔اس پر ان میں سے دو قبائل وا پس فلسطین چلے گئے اور باقی دس قبائل افغانستان، ہندوستان اور کشمیر میں آکر آباد ہو گئے۔عرصہ دراز تک ان اسرائیلی قبائل کے حالات مخفی رہے۔یہی دس (10) گمشدہ اسرائیلی قبائل تھے جن سے مؤرخین آگاہ نہیں تھے کہ یہی گمشدہ اسرائیلی قبائل ہیں۔عرصہ دراز کے بعد یورپین اقوام کے خروج کے بعد مؤرخین کو ان گمشدہ قبائل کا پتہ چل گیا اور انہوں نے انہیں افغانستان اور کشمیر میں پایا۔تب دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ افغانستان سے کشمیر تک کے لوگ دس گمشدہ اسرائیلی قبائل کی اولاد ہیں اور انکی گمشدگی کا معمہ حل ہو گیا۔افغانوں اور کشمیریوں کا خود بھی دعوی ہے کہ وہ بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ان کے شجرے بھی یہی گواہی دیتے ہیں اور کشمیر و افغانستان کی تاریخیں بھی یہی ثابت کرتی ہیں۔مشرق و مغرب کے اہلِ علم کے نزدیک اب یہ امر مسلم ہے۔کشمیر میں تخت سلیمان، قبر موسیٰ وغیرہ قدیم آثار، افغانستان میں موسیٰ خیل، عیسی خیل، داؤد خیل وغیرہ قبائل کے اسرائیلی نام اور دونوں ملکوں کا لباس، تمدن زندہ گواہ ہیں کہ وہ بنی اسرائیل ہیں۔ابوریحان البیرونی نے کتاب الہند میں، ڈاکٹر بر نیئر مغربی سیاح نے اپنے سیاحت نامہ میں اور ڈاکٹر ☆ اقبال وغیرہ محققین نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔تورات میں پہلے سے پیشگوئیاں تھیں کہ جب بنی اسرائیل توحید سے ہٹ کر شرک و بت پرستی اور خدا کی نافرمانی کرنے لگیں گے تو ان پر ظالم بادشاہ بھیجے جائیں گے جو انہیں ان ملکوں سے جو خدا نے ان کے باپ دادا کو بطور انعام دیئے تھے، منتشر کر کے دور دراز ملکوں میں بکھیر دیا جائے گا۔( دیکھو استثناء باب 32 آیت 26 ، یسعیاہ باب 41 و باب 6 آیت 21، استر باب 1 آیت 1 و باب 3 آیت 8) قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل آیت 5 تا 9 میں بھی بنی اسرائیل کے دوبار فساد کرنے اور دو بار عذاب میں مبتلا ہونے کا ذکر آچکا ہے اور تاریخ کی گواہی بھی یہی ہے کہ بنی اسرائیل پر دوبار ز بر دست تباہی آئی۔ایک بخت نصر (شاہ بابل) کے وقت جس نے ان پر حملہ کر کے شکست دی دوسری طیطس رومی کے حملہ کے وقت جبکہ انہیں اپنے وطن چھوڑ کر مشرقی ملکوں میں پناہ گزین ہونا پڑا۔افغانوں کے اسرائیلی الاصل ہونے پر بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب «مسیح ہندوستان میں میں مفصل بحث کی ہے تفصیلات وہاں سے ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ہم نے اسی لئے یہاں اختصار کی رعایت پیش نظر رکھی ہے۔