مسیح کشمیر میں — Page 97
97 66 ترجمہ اس جگہ سید عبدالغنی نے بیعت کی نگہداشت کی ، جن عربی الفاظ کا ترجمہ کیا ہے وہ اَحْسَن البيعة یعنی غلطی سے اس نے بیعۃ کو بیعت “ پڑھا ہے۔ڈاکٹر روزن (روسی) نے اسکا تر جمہ کیا ہے جس میں مقدس یادگار (SHRINOE ) کو منکشف کیا ہے۔دراصل یہ لفظ وہی ہے جو قرآن مجید کے سورہ حج آیت 41 میں نصاری کے معاہد کیلئے آیا ہے۔صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِديس اسکے معنی ہونگے کہ میں نے مقدس معبد ( کلیسیا ) قائم کیا ہے، اسی بیعتہ کی جمع قرآن میں بیج استعمال ہوا ہے اور یہودیوں ونصاریٰ کے معبد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔(ملاحظہ ہوالمنجد عربی لغت ) 6 - اکمال الدین کے مصنف شیخ سعید الصادق ابی جعفر محمد بن بابویہ تمی (المتوفى 381ھ مطابق 961ء) نے جن کا ذکر گزر گیا یوز آسف کی آخری وصیت ان الفاظ میں نقل کی ہے۔آپ نے ( یوز آسف نے ) مرنے سے پہلے اپنے شاگرد یا بد کو بلایا جو آپ کی خدمت اور حفاظت کرتا تھا اور وہ تمام امور میں کامل تھا۔اسے آپ نے وصیت کی اور کہا کہ میرا دنیا سے اٹھایا جانا قریب ہے۔پس تم اپنے فراض کی حفاظت کرتے رہو اور حق سے ادھر ادھر نہ ہونا اور عبادت بجالاتے رہنا۔پھر اس نے یابد کوحکم دیا کہ وہ اسکا مقبرہ بنائے تب اس نے اپنے دونوں پیر پھیلا دیے اور اپنے سر کو مغرب کی طرف کیا اور اپنے منہ کو مشرق کی طرف اور وفات پائی۔7- کتاب یوز آسف کے مطابق آپ کے بعض اور منتخب مواعظ یہ ہیں، فرمایا: دنیا کی مثال مست ہاتھی کی ہے اور اہل دنیا کی مثال اس شخص کی جو مست ہاتھی کے خوف سے کنویں میں جا گرتا ہے۔“ 8- کسان کے بیج بونے والی مشہور تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: کسان بونے کیلئے اچھے اچھے بیج نکالتا ہے اور جب ایک مٹھی بھر کر پھینکتا ہے تو کچھ دانے راستہ کے کنارے پر گرتے ہیں اور تھوڑی دیر میں چڑیاں چگ جاتی ہیں اور کچھ پتھروں پر گرتے ہیں اور اگر کسی پر ذرا سی مٹی جمی ہوتی ہے تو پھوٹتے ہیں اور سبزہ لہلہاتا ہے مگر جب پتھر پر انکی جڑ پہنچتی ہے تو جل کر سوکھ جاتے ہیں اور کچھ دانے کانٹوں سے بھری ہوئی زمین پر جا پڑتے ہیں اور جب وہ اگتے ہیں اور بالیں نکلتی ہیں اور پھلنے پھولنے کا زمانہ قریب آتا ہے تو کانٹوں میں لپٹ کر ضائع و بیکا ر ہو جاتے ہیں اور جو دانے ایسی زمین پر گرتے ہیں جو تھوڑی ہے مگر صاف ہے تو وہ خوب پھلتے پھولتے ہیں۔“ کسان مثل ناصح کے ہے اور دانوں کی مثال نصیحتوں کی ہے۔لیکن وہ دانے جو راستہ کے کنارے انجیل میں بھی نبی اپنا مقصد بعثت یہی بتلاتا ہے کہ میرا کام منتشر بھیٹروں کو جمع کرنا ہے۔(دیکھو یوحنا باب 10 آیت 16)