مسیح کشمیر میں — Page 89
89 اس کے ہاتھ اور پاؤں متورم رہتے تھے مگر بعد میں اچھے ہو گئے۔اسکے دس حواری بھی تھے جن کو اس نے بپتسمہ دیا۔“ راج ترنگنی میں " ایشاں دیو" کے نام سے عیسی کا ذکر (قلمی تاریخ کشمیر عربی) اسلامی عہد کی تاریخوں کے علاوہ اسلام سے قبل ہند و عہد کی تاریخوں میں بھی ایشاں دیو کے نام سے حضرت عیسی کی کشمیر میں موجودگی اور پیشگوئی کرنے کا ذکر آیا ہے۔ان میں سے ایک مشہور اور قدیم تاریخ راج ترنگنی بھی ہے جو ایک ہندو برہمن پنڈت کلہن نے بارہویں صدی عیسوی یعنی آج سے آٹھ سو سال قبل لکھی تھی۔یہ تاریخ ہندوستان کی قدیم تاریخ کا بھی ماخذ ہے اس میں پنڈت کلہن نے پہلی صدی عیسوی میں سلیمان اور اس کے گر و عیسی دیو کا دلچسپ واقعہ ذکر کیا ہے۔ہند و مؤرخین سلیمان کو سند مستی ، سندھی متی، سمدھی متی ، سندھیمت کے مختلف ناموں سے موسوم کرتے ہیں اور عیسی کا نام عیسا نادیو، ایشان دیو سند یمان کا گرو وغیرہ لکھتے ہیں۔بھوشیا پر ان میں عیسی مسیح بھی لکھا ہے۔مسلمان مؤرخین سند یمان کا نام سلیمان اور حضرت مسیح کا نام یوز آسف عیسی روح الله، پیغمبر بنی اسرائیل وغیرہ لکھتے ہیں۔تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سب ہندو مسلم مؤرخین عیسی دیوا اور سند یمان کے اصل واقعہ سے متفق ہیں۔صرف زبان کے لہجے اور مذہبی تصورات کی وجہ سے اختلاف نظر آتا ہے۔راج ترنگنی میں عیسی کا ذکر ایشان دیو کے نام سے کیا گیا ہے اور سند یمان کا سندھی مستی کے نام سے۔یہ دلچسپ واقعہ ملخصاً درج ذیل ہے۔سندھی متی اس راجہ (جے اندر) کا ایک وزیر تھا۔شریر آدمیوں نے اس معتبر مشیر کے برخلاف راجہ کے کان بھرنے شروع کئے اور اسے سندھی متی سے بالکل متنفر کر دیا۔اس نے غصہ میں آکر اسے دربار سے نکال دیا اور اسکی جائیداد ضبط کر لی۔انہی دنوں میں یہ افواہ تمام شہر میں پھیل گئی کہ سندھی متی کشمیر کا راجہ بنے گا۔راجہ کو یقین دلایا گیا کہ معزول وزیر نے ہی یہ افواہ اڑائی ہے۔راجہ نے اس خیال سے کہ اگر یہ خیال درست نکلا تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا ؟ سندھی متی کو ہتھکڑی لگا کر جیل خانہ میں ڈال دیا۔جہاں وہ دس سال تک راجہ کے مرتے دم تک قید رہا۔راجہ لا ولد تھا اس نے خیال کیا کہ میرے بعد سندھی متی ضرور تخت کا مالک بنے گا۔چنانچہ اس نے سندھی متی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔جلا دوں نے اسے رات کے وقت سولی پر چڑھا دیا۔جب راجہ نے سنا تو اس نے بھی مطمئن ہو کر جان دیدی۔ادھر سندھی متی کے صلیب دیے جانے کی خبر اسکے گرو ایشاں دیو کوملی تو اس نفس کش سادھو کا دل بے قابو ہو گیا۔شمشان بھومی میں جا کر جب گرو