مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 69
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ،، 57 میں دوبارہ نالش کرنے لگا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے يَدْعُونَ لَكَ ابْدَال الشّام ابدالِ شام تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں، جس کے معنے یہ ہیں کہ شام میں جماعت پھیلے گی۔پس دوستوں کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہاں جماعت کے لئے سہولت پیدا کرے اور وہاں جماعت کو کثرت کے ساتھ پھیلائے تا ابدال شام پیدا ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہیں نہیں يَدْعُونَ لَكَ کے معنی ہیں کہ وہ جماعت کے لئے دعائیں کریں گے اور ابدال نام بتاتا ہے کہ ان کی دعائیں سنی جائیں گی۔ابدال کے معنے ہیں کہ ان کے اندر بڑی عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کے مقرب ہو جائیں گے۔پس اس کے لئے بھی دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے کہ شام میں جو مشکلات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دور کرے۔وہاں مضبوط جماعت پیدا ہو اور ایسے ابدال پیدا ہوں جو رات دن اسلام اور احمدیت کے لئے دعائیں کرتے رہیں ہمیں پونڈ مہیا کرنے میں شام کا بھی بڑا دخل ہے۔شام میں بھی ڈالر اور پونڈ کا زیادہ رواج ہے اور وہاں سے ہمیں کچھ مددمل جاتی ہے بہر حال اگر سعودی عرب میں جماعت پھیلے اس طرح امریکہ اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور فلپائن میں ہماری جماعت پھیلے تو ڈالر مل سکتا ہے اس طرح اگر مشرقی اور مغربی افریقہ اور انگلینڈ میں جماعت پھیلے تو پونڈ جمع ہو جاتا ہے۔یہ پونڈ اور ڈالر ہمیں اپنے لئے نہیں چاہئیں، خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کے گھر کی تعمیر کے لئے ہمیں ان کی ضرورت ہے۔پس دعائیں کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ان ممالک میں جماعت قائم کرے اور ان میں ایسا اخلاص پیدا کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر سارے ممالک میں بنائیں یہاں تک کہ دنیا کے چپہ چپہ سے اللہ اکبر کی آواز آنے لگ جائے اور جو ملک اب تک تثلیث کے پھیلانے کی وجہ سے بد نام تھا وہ اب اپنے گوشہ گوشہ سے یہ آواز بلند کرے کہ مسیح تو کچھ نہ تھا اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے۔اگر ایسا ہو جائے تو یہ اسلام کی بڑی بھاری فتح ہے اور ہمارے لئے بھی یہ للہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ہم میں سے ہر شخص وہاں تبلیغ کے لئے جانہیں سکتا چند مبلغ گئے ہوئے ہیں باقی لوگ یہ کر سکتے ہیں کہ ان کی روپے سے مدد کریں اور دعاؤں کے ذریعے خدا تعالیٰ کا فضل چاہیں تا کہ وہ ان پر اپنے فرشتے اتارے اور ان کی باتوں میں اثر پیدا کرے۔(روزنامه الفضل ربوه 6 / نومبر 1958 ، صفحہ 1، 2، 3، بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 20 ص 161 تا 163)