مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 60 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 60

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 48 اور میں خود بھی از ہر شریف کا تعلیم یافتہ ہوں اور ہمیں واقعی افسوس ہے کہ مصر کے اس اہم اور مقدس اسلامی ادارے کو باقاعدہ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے اور دشمنان اسلام کے تبشیری حملوں کا مقابلہ کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔میرا ارادہ ہے کہ میں اپنی واپسی پر انشاء اللہ جامعہ از ہر کے سرکردہ مشائخ کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں۔مشن سے رخصت ہونے سے پہلے آپ نے مشن کی وزیٹرز بک میں مندرجہ ذیل ریمارکس "كم كان سرورى أن أرى دعاة الإسلام الأحمديين في غرب إفريقيا وفقكم الله تعالى لأداء هذه الرسالة المباركة بهجات قنديل سيكرتير عام جمعية الاتحاد بين المذاهب یعنی مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغین کی سرگرمیاں دیکھ کر مجھے از حد خوشی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کا مبارک پیغام پہنچاتے رہنے کی توفیق عطا کرے۔بہجات قندیل جنرل سیکرٹری جمعية الاتحاد بين المذاهب 10 مئی 1960ء از الفضل 17 جولائی 1960 ء صفحہ 4 بعض عرب ممالک کے سیاسی حالات کا دینی جماعتوں پر اثر پچاس کی دہائی میں شام سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار رہا۔1957 ء میں شام کے ترکی کے ساتھ تعلقات اس حد تک خراب ہوئے کہ فوجیں سرحدوں پر جمع ہو گئیں اور جنگ کے ہولناک سائے دونوں ملکوں پر منڈلانے لگے۔ایسی صورتحال نے شام کو سوویت یونین کے قریب ہونے پر مجبور کیا۔جب مغربی ممالک کی طرف سے شام پر دباؤ بڑھنے لگا تو شام اور مصر نے آپس میں اتحاد کر لیا اور متحدہ جمہوریت کے صدر جمال عبدالناصر منتخب ہوئے۔لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکا کیونکہ اشتراکی نظام کے نفاذ، سیاسی جماعتوں پر پابندی جیسے امور نے فوج کو دخل دینے پر مجبور کر دیا اور 1961ء میں یہ اتحادٹوٹ گیا۔اس مختصر سی وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کرام کو اس پورے خطے کی صورتحال کا اندازہ