مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 59 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 59

47 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم با اثر عیسائیوں اور سفارت خانوں کے کارکنوں کو اپنی طرف سے پیش کی تھیں۔انہوں نے مسٹر بھجات صاحب سے میرا تعارف کرا کے خود ہی انہیں جماعت احمدیہ کی یورپ وافریقہ اور امریکہ میں تبلیغی سرگرمیوں سے مختصراً آگاہ کیا۔دوسرے روز شام کو مسٹر ہجات ہمارے مشن میں تشریف لائے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرے رہے۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ سے روشناسی کرایا گیا۔نیز دنیا کے تمام اہم احمد یہ مسلم مشنوں کا بھی یکے بعد دیگرے تعارف کرایا اور ساتھ ساتھ دنیا میں جماعت احمدیہ کی طرف سے قائم کردہ مساجد سکول کالج اور مشن سنٹرز کی تصاویر بھی دکھا ئیں اور اپنے اکثر احمد یہ انگریزی اور عربی اخبارات اور رسالوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف تحفہ بغداد اور استفتاء وغیرہ کی ایک ایک کاپی بھی انہیں تحفہ پیش کی وہ یورپ اور امریکہ میں ہماری نئی مساجد کی تصاویر دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور جماعت احمدیہ کے ممبران اور خصوصاً مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ دینے والوں کو بہت دعائیں دیں اور ہماری ہر مسجد اور مشن کی ابتداء اور بنیاد وغیرہ کے متعلق جملہ معلومات تحریر انوٹ کرتے رہے۔اس کے بعد خاکسار نے ان کے استفسار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور ایک احمدی اور غیر احمدی میں ما بہ الامتیاز پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ احمدیت حقیقی اسلام کے سوا اور کوئی نئی چیز دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتی اور اس کا مقصد قرآنی آیت کریمہ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ کے مطابق مسلمان عوام کو حقیقی اور سچے مومن بنانے اور تمام دنیا کے دیگر مذاہب کے لوگوں کو بذریعہ تبلیغ دین اسلام میں داخل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک یہی امام آخر الزمان کی بعثت کی غرض و غایت ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پورا کرنے میں دن رات ہمہ تن مشغول ہے۔مسٹر بھیجات صاحب نے آخر پر فرمایا کہ آپ کی باتیں واقعی نہایت قابل غور ہیں جنہوں نے مجھ پر گہرا اثر کیا ہے اور بطور مسلمان ہم شرمندہ ہیں کہ ہم اسلام کی بذریعہ تبلیغ اشاعت اور اس کی تقویت کا فریضہ جو ہم پر عائد ہوتا ہے ادا نہیں کر رہے۔لیکن ہمیں خوشی ہے کہ آپ کی جماعت کے افراد دنیا کے باقی مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ کے طور پر یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں نیز آپ نے کہا کہ میرے اپنے والد از ہر شریف کے خاص مشائخ میں سے